Urdu book · تعمیر انسانیت

اتحاد انسانیت

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری عالمی جنگ، جس کے دونوں فریق ایک ہی مذہب کے ماننے والے تھے۔ افغانستان کی موجودہ جنگ، جس میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے دو گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف خونی جنگ لڑ رہے ہیں، وغیرہ۔ لڑائی کا تعلق کچھ اور اسباب سے ہے نہ کہ مذہب اور عقیدہ کے اختلاف سے۔ ۶۔ یہ بے حد سادگی کی بات ہے کہ مختلف مذاہب کو ایک بتا کر یہ سمجھا جائے کہ انسانوں کے درمیان اختلاف ختم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق واختلاف خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بالفرض اگر مذہب کا اختلاف ختم کر دیا جائے تب بھی ہزاروں دوسرے اختلافات انسانوں کے درمیان موجود رہیں گے جو ان کو ٹکرانے کے لئے کافی ہوں گے۔ فرق واختلاف جب خود فطرت ہی کا ایک حصہ ہو تو کوئی بھی انسان اس کو ختم کرنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ مذہب کے علاوہ زندگی کے جو دوسرے شعبے ہیں، ان میں ہر جگہ لوگوں کے درمیان باہمی اختلافات پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ باپ بیٹے اور میاں بیوی کے درمیان بھی۔ زندگی کا پورا نظام اختلاف کو گوارا کرنے کے اصول پر چل رہا ہے نہ کہ اختلاف کو مٹانے کے اصول پر۔ ایسی حالت میں آسان ترین بات یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں بھی اسی عام اصول کو مان لیا جائے جو دوسرے انسانی شعبوں میں ہمیشہ سے جاری ہے، یعنی اختلاف کے باوجود اتحاد، اختلاف کے باوجود عزت واحترام۔ یہ نظریہ کہ تمام مذاہب یکساں طور پر برحق ہیں، غیر واقعی بھی ہے اور بے فائدہ بھی۔ زیادہ صحیح اور قابلِ عمل بات یہ ہے کہ تمام انسان قابلِ احترام ہیں۔ مختلف مذاہب میں بلاشبہ اختلاف ہے اور اس اختلاف کے بارے میں پر امن ڈائیلاگ بھی جاری رہنا چاہئے۔ مگر جہاں تک حامل مذہب یا دوسرے لفظوں میں انسان کا معاملہ ہے، وہ ہر حال میں عزت واحترام کا مستحق ہے۔ ہر انسان یکساں طور پر خدا کی مخلوق ہے۔ ہر انسان بحیثیت انسان برابر کا درجہ رکھتا ہے۔ یہی واحد فارمولا ہے جو دو مختلف عناصر (مذہب اور حامل مذہب) کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page