اتحاد انسانیت
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
اور انسانیت کو وہ امن دے سکتا ہے جو بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی اتحاد کا صحیح فارمولا یہ نہیں کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ اس کے بجائے انسانوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرنے کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ۔ ایک کی پیروی کرو، اور سب کا احترام کرو : Follow one and respect all. وحدت کاراز ۱۵ اپریل ۱۹۹۸ کو میں رشی کیش میں تھا۔ اس وقت یہاں ایک پروگرام کے تحت مختلف - ملکوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں چند تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ایک مفید گفتگو ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ انسانی سماج میں باہمی رواداری (tolerance) اور احترام (respect) کا ماحول کس طرح پیدا کیا جائے۔ انھوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ لوگوں کے اندر وحدت حقیقت (oneness of reality) کا عقیدہ بٹھایا جائے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سچائی ایک ہے مگر اس کے راستے مختلف ہیں۔ آدمی جس مذہبی طریقہ پر بھی چلے، آخر کار وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔ یہ ایک قدیم نظریہ ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں سب کی سب تمثیل پر مبنی ہیں۔ مثلاً ند کورہ مجلس میں ایک ہندو اسکالر نے کہا کہ اگر آپ ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک ہی راستہ دکھائی دے گا جو پہاڑی کے اوپر جا رہا ہوگا۔ لیکن اگر آپ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جائیں اور اس کے چاروں طرف دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ پہاڑ کے ہر طرف راستے ہیں اور وہ سب الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بلندی پر پہنچ رہے ہیں۔ یہ استدلال صرف ایک تمثیل پر مبنی ہے، اور تمثیلی استدلال خالص علمی اعتبار سے کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اس کو نہایت آسانی کے ساتھ دوسری تمثیل سے رد کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً بمبئی یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader