اتحاد انسانیت
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی جیسے ریلوے اسٹیشن پر کوئی شخص کھڑا ہو تو اس کو سیکڑوں گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں گی۔ مگر یہ سمجھنا یقینی طور پر درست نہ ہوگا کہ ان میں سے ہر گاڑی ایک ہی آخری اسٹیشن کی طرف جارہی ہے۔ مذکورہ تمثیل میں تمام راستے اگر ایک ہی منزل کی طرف جارہے ہیں تو اس قسم کی دوسری تمثیل میں ہر راستہ الگ الگ منزل کی طرف چلا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی سماج میں احترام اور رواداری کا ماحول پیدا کرنے کے مسئلہ سے مذکورہ نظریہ کا کوئی تعلق نہیں، حتی کہ اگر تمام لوگ اس عقیدہ کو مان لیں تب بھی وہ مطلوب سماجی مقصد کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ایک مذہب کو ماننے والے گروہ کے درمیان باہمی طور پر ہر زمانہ میں لڑائیاں جاری رہی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔ پھر جو نظریہ اتحاد ایک مذہب کے درمیان کار آمد نہ ہوسکا، وہ مختلف مذاہب کے درمیان کس طرح کار آمد بن جائے گا۔ ”وحدت دین سماجی اتحاد پیدا کرتا ہے“۔ یہ نظریہ بظاہر یہ فرض کرتا ہے کہ ’وحدت دین‘ کے اصول کو ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے، اب اس کا عملی تجربہ کرنا ہے۔ حالانکہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نہایت اعلیٰ سطح پر اس نظریہ کا تجربہ کیا گیا مگر وہ سراسر ناکام ثابت ہوا۔ شہنشاہ اکبر کی حکومتی طاقت، ڈاکٹر بھگوان داس کا انسائیکلوپیڈیا علمی اور مہاتما گاندھی کی مقبول لیڈر شپ، اس قسم کے بہت سے بڑے بڑے تجربے ناکامی کی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج ہمارے سامنے جو اصل مسئلہ ہے وہ وحدت دین کے نظریہ کے تجربہ کا نہیں ہے بلکہ اس کے لمبے تجربہ کے باوجود مطلوب نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو چیز مفقود ہے وہ نظریہ کی موجودگی نہیں ہے بلکہ نظریہ کے موجود ہوتے ہوئے نتیجہ کا حاصل نہ ہونا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں اس نظریہ کے سوا ایک اور حل تلاش کرنا ہے نہ کہ اسی ناکام تجربہ کو مزید دہرانا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader