Urdu book · تعمیر انسانیت

اتحاد انسانیت

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مسئلہ کا زیادہ صحیح اور قلیل عمل وہ ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن نے جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان نفس واحدہ سے پیدا کیے گئے ہیں (النساء ۱) یعنی تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ اس لحاظ سے تمام انسان آپس میں بہن بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب کے سب آپس میں بلڈ سسٹر ز (خونی بہن) اور بلڈ بردرز (خونی بھائی) ہیں۔ اس تصور کے مطابق، سماج میں اتحاد و احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بنیاد وحدت انسانیت ہے۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ ظاہری اختلاف کے باوجود سب کے سب أصلاً ایک انسانی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے اعتبارات سے بظاہر مختلف ہونے کے باوجود وہ انسانی اعتبار سے ایک ہیں۔ انسانی سماج میں اتحاد کاراز وحدت ادیان کے عقیدہ میں نہیں ہے بلکہ وحدت انسان کے عقیدہ میں ہے۔ یعنی مذہب تو جدا جدا ہیں مگر انسان سب کے سب یکساں سماجی درجہ رکھتے ہیں۔ سماج میں اتحاد و احترام پیدا کرنے کے لئے یہی واحد فارمولا ہے جو قابل عمل ہے اور اسی کے ساتھ فطرت کے مطابق بھی۔ عظیم نقصان ”تمام مذاہب سچے ہیں“ کا نظریہ کوئی بے خطر نظریہ نہیں۔ اس میں ایک عظیم نقصان چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ مذہب کے نام سے لوگوں کے پاس آخر کار صرف عصبیت باقی رہے۔ بہت سے لوگ ہمیشہ کے لئے سچے مذہب کی نعمت سے محروم ہو جائیں۔ مذہب کے سوا دوسرے معاملات میں ڈائیلاگ اور بحث ومباحثہ کو پسند کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے یہ فائدہ ہو تا ہے کہ اصل حقیقت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ مثلاً کچھ لوگ اپنے باپ دادا سے سن کر اگر یہ مان لیں کہ زمین چوکور ہے۔ اور اس عقیدے کے ساتھ ان کے جذبات اتنے زیادہ وابستہ ہو جائیں کہ وہ اس موضوع پر بحث کو پسند نہ کریں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہو گا کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page