کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
کنورزن کا مسئلہ کنورزن کے معاملہ میں ایک نقطۂ نظر وہ ہے جس کو معروف طور پر مذہبی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ایک مذہبی گروہ کے آدمی کا اپنے مذہب کو بدل کر دوسرے مذہبی گروہ میں شامل ہو جانا۔ مذہبی اصطلاح میں تبدیلی مذہب (proslytism) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ کنورزن کا ایک بہت محدود تصور ہے۔ اس کے علاوہ کنورزن کا ایک اور وسیع مفہوم بھی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں کنورزن کا سائنٹفک نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے۔ کنورزن کے بارے میں جو مذہبی نقطۂ نظر ہے اس کا تعلق صرف مذہبی روایت سے ہے۔ اس اعتبار سے وہ نسبتاً ایک محدود نقطۂ نظر ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر کا دائرہ، اس کے مقابلہ میں، بہت زیادہ وسیع ہے۔ وہ خود فطرت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہبی معنوں میں کنورزن کسی انسان کے لئے اس کے اپنے چوائس کا معاملہ ہے۔ مگر سائنٹفک معنوں میں کنورزن انسانی چوائس کا معاملہ نہیں۔ وہ زندگی کا ایک اٹل قانون ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح فطرت کے دوسرے قوانین اٹل قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنٹفک کنورزن کے اصولوں کو ہم اسی طرح ماننے پر مجبور ہیں جس طرح ہم شام کے بعد صبح کو مانتے ہیں یا ایک موسم کے بعد دوسرے موسم کے آنے پر یقین رکھتے ہیں۔ میں نے خدا کے فضل سے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ میں نے سائنس کو بھی پڑھا ہے۔ اس دو طرفہ مطالعہ کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کنورزن کے معاملہ میں سائنس یا فطرت کا جو اصول ہے عین وہی خود اسلام کا اصول بھی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق یا اختلاف نہیں۔ اسلام اور کنورزن اسلام کنورزن کی حمایت کرتا ہے۔ مگر اسلام کے نزدیک کنورزن رسمی مفہوم میں محض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader