Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

تبدیلی مذہب (proselytism) کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) یا روحانی تغیر (spiritual transformation) کے نتیجہ میں ایک شخص کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ یہ سادہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچہ سے نکل کر دوسرے مذہبی ڈھانچہ میں جانا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنی تلاش و تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کیا۔ اور پھر اپنے ذاتی فیصلے کے تحت ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ۶ ھ کے آخر میں اس زمانہ کے پڑوسی حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے تھے۔ ان خطوط میں ان کو اسلام قبول کرنے کی براہ راست طور پر دعوت دی گئی تھی۔ مثال کے طور پر آپ نے باز نطینی حکمران ہرقل (Heraclius-1) کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس میں یہ الفاظ لکھے۔ ” اسلم تسلم “ (اسلام لاؤ تم سلامتی پاؤ گے) اسی طرح مکہ میں جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہوتا وہاں جا کر آپ فرماتے ”ایھا الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا“ (اے لوگو! کہو کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ، تم فلاح پاؤ گے) یہ بظاہر لوگوں کو مذہب بدلنے کی دعوت تھی۔ مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقہ تبدیلی فکر کی دعوت تھی نہ کہ سادہ طور پر محض مذہب بدل لینے کی۔ اسلام کے دور اول میں عرب کے کچھ دیہاتی لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے جب کہ ان کے اندر گہرے قسم کی کرداری تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ان کے بارے میں قرآن میں یہ سخت آیت اتری۔ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (الحجرات ۱۴) اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کنورژن کا مطلب ایک انسان کی پوری زندگی کی تبدیلی ہے نہ کہ معروف معنوں میں صرف مذہب کی تبدیلی۔ اسی طرح قرآن میں یہود و نصاریٰ کے طریقہ پر نقد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : کہو کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page