Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا۔ اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں (البقرہ ۱۳۸) یہود و نصاریٰ کے یہاں مذہب بدلنے کا ایک رسمی طریقہ رائج تھا جس کو اصطباغ یاپتسمہ (baptism) کہا جاتا ہے۔ اس رسم میں آدمی کو پانی میں غوطہ دیا جاتا تھا۔ وہ پانی کے رنگ کو پاکی کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مذہبی پیشوا کے ذریعہ صاف پانی میں غوطہ دینے سے ایک ناپاک آدمی پاک ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ نئے مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کہا گیا کہ جسم کے اوپر ظاہری طور پر پانی ڈالنے سے کوئی شخص پاک نہیں ہوتا۔ پاکی یہ ہے کہ آدمی کی پوری شخصیت بدل جائے ، اس کے اندر اللہ کا رنگ داخل ہو جائے، وہ اپنے قول و عمل میں پوری طرح خدائی طریقہ کو اختیار کرلے۔ اس معاملہ میں قرآن یہاں تک جاتا ہے کہ وہ رسمی تبدیلی مذہب کی سرے سے تصدیق ہی نہیں کرتا۔ قدیم مدینہ میں تقریباً تین سو آدمی ایسے تھے جو اسلام کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ وہ بظاہر نماز روزہ بھی کرتے تھے مگر یہ سب کچھ انھوں نے اوپری طور پر یا منافقانہ طور پر کیا تھا۔ ان کی اندرونی حالت ان کے ظاہری اقرار کے موافق نہیں تھی۔ وہ زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے مگر قلبی کیفیت کے اعتبار سے ان کے اندر اسلام کی اسپرٹ موجود نہ تھی۔ ایسے لوگوں کے اسلام کو قرآن میں جھوٹا اسلام کہا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ (المفقون-۱) قرآن کے مطابق تبدیلی مذہب سے مراد کیا ہے۔ اس کا اندازہ چند آیتوں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جب کہ تقریباً ستر عیسائیوں کے ایک مجمع میں قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں۔ اس کو سن کر وہ لوگ تڑپ اٹھے اور اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے : اور جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page