Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔ (المائدہ ۸۳۔۸۴) اسی طرح قرآن میں ایمان لانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں اور ان کے لئے عزت کی روزی ہے۔ (الانفال ۲۔۴) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک تبدیلی مذہب حقیقت میں وہ ہے جو معرفت (realisation) کے نتیجہ میں پیش آئی ہو، جب کہ ایک انسان کی تلاش حق اپنی تلاش کا قابل یقین جواب پالے۔ یہ پانا اس کے لئے اتنا گہرا تجربہ ہو کہ اس کا دل تڑپ اٹھے۔ اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔ اس کا پورا وجود اس سچائی کے رنگ میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا اور بالکل مختلف انسان بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کنورژن کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ کنورژن کے معاملہ کو بتانے کے لئے دوسرے زیادہ بامعنی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن جس دعوتی مشن کے تحت اتارا گیا ہے اس کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور ایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page