کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
توفیق سے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ (المائدہ ۱۵-۱۶) اسی طرح جو لوگ قرآن کے مطالعہ سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے : جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے، کیا وہ اس کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت تو عقل والے لوگ ہی قبول کرتے ہیں (الرعد ۱۹) اس آیت کے مطابق، حقیقی کنور زن وہ ہے جو علم کی سطح پر واقع ہو، جس میں آدمی یہ محسوس کرتا ہو کہ وہ نہ جاننے کے مرحلہ سے نکل کر جاننے کے مرحلہ میں داخل ہوا ہے۔ اسی لئے حدیث میں داخلہ اسلام سے پہلے کے دور کو "جاہلیت" کہا گیا ہے، یعنی بے خبری کا دور۔ اسی طرح قرآن میں مومن اور غیر مومن کے فرق کو موت کے بعد زندگی پانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ : کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، اس سے نکلنے والا نہیں۔ (الانعام ۱۲۲) اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ زمین کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین ہری بھری فصل سے لہلہا اٹھتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے دلوں میں استعداد ہے وہ سچائی کو پا کر جاگ اٹھتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے : اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار صرف نا قص نکلتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لئے جو شکر والے ہیں۔ (الاعراف ۵۸) اس بات کو قرآن میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے : کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader