کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جمی ہوئی ہے۔ اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (ابراہیم ۲۴۔۲۷) قرآن کی ان آیتوں میں اس فرق کو بتایا گیا ہے جو سچائی کو پائے ہوئے انسان اور سچائی کو نہ پائے ہوئے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی سچائی کو نہ پائے وہ گویا ایک ایسی جھاڑی کی مانند ہے جو زمین کے اوپر اگ آتی ہو۔ ایسی جھاڑی کچھ دن تک بے فائدہ طور پر زمین کے اوپر رہتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ یا تو خود مٹ جاتی ہے یا اکھاڑ کر پھینک دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ایک مفید اور پھل دار درخت زمین کے اوپر اس طرح اگتا ہے جیسے کہ وہ زمین کے لئے ہے اور زمین اس کے لئے۔ وہ زمین اور فضا سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے خوب ترقی کرتا ہے۔ اس سے لوگوں کو ہر قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر ایک مطلوب اور بامعنی وجود کے طور پر کھڑا ہوادکھائی دیتا ہے۔ کنورژن ــ ایک آفاقی اصول اس معاملہ کا ایک پہلو اور ہے جس کی طرف قرآن میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کنورژن کا معاملہ محدود طور پر صرف مذہب کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔ موجودہ کائنات میں تمام ترقیاں اسی کنورژن کے طریقہ پر ظہور میں آئی ہیں۔ کائنات اپنی ابتدا میں ایک بند مادہ کی صورت میں تھی، پھر اس میں داخلی تغیر ہوا۔ یہ بند مادہ کھل کر پھیلنا شروع ہوا یہاں تک کہ موجودہ وسیع کائنات بن گئی۔(الانبیاء۔۳۰) زمین سوکھی پڑی ہوئی ہوتی ہے پھر بارش کے ذریعہ اس میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ چٹیل میدان ہری بھری فصلوں اور شاداب درختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ (الحج ۵)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader