Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح کچھ بظاہر غیر ذی روح اجزاء ایک مادہ کے بطن میں مخصوص تغیرات کے مراحل سے گزرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک مکمل قسم کے ذی روح وجود کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ چلتے پھرتے انسان اور چلتے پھرتے حیوان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے (الانعام ۹۶) اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گائے کے پیٹ میں گھاس اور دانا داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک قدرتی نظام کے تحت کچھ تغیراتی مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے جو انسان کے لئے ایک نہایت قیمتی غذا ہے۔ (النحل ۶۶) وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے قدرتی مظاہر کی مثال دے کر قرآن میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ یہ دنیا کنورزن کے عالمی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقیاں ہمیشہ تغیراتی عمل (process) سے گذر کر وقوع میں آتی ہیں۔ ایک چیز اپنی ابتدائی حالت میں کچھ ہوتی ہے، اور پھر اس پر تغیر و تبدل کا عمل واقع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ چیز ایک نئی بہتر چیز بن جاتی ہے۔۔۔۔ دو قسم کے بدلوں کے ٹکراؤ سے نائٹروجن کا پیدا ہونا، دو قسم کی گیسوں کے ملنے سے پانی کا وجود میں آنا، خام لوہے کا متغیر ہو کر اسٹیل بن جانا۔ مختلف قسم کے کیمیکل کی آمیزش سے نئی نئی مفید دھاتوں کا بننا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وسیع تر معنوں میں کنورزن کی مثالیں ہیں۔ یہی کنورزن انسانی افکار کی دنیا میں بھی کار فرما ہے۔ اس دنیا میں مسلسل طور پر افکار کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے۔ اسی ٹکراؤ کے عمل سے ایک فکر تبدیل ہو کر دوسرے زیادہ بہتر فکر کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں سینکڑوں سال تک شمسی نظام کے بارے میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کا غلبہ تھا۔ پھر فکری تصادم کے نتیجہ میں اس میں تغیر شروع ہوا۔ یہاں تک کہ زمین مرکزی نظریہ کو علمی دنیا میں رد کر دیا گیا اور اس کی جگہ آفتاب مرکزی نظریہ (-helio-centric theo) (ry کو زیادہ صحیح قرار دے کر اس کو قبول کر لیا گیا، وغیرہ۔ افکار کی دنیا میں اسی کنورزن کی ایک مثال وہ ہے جس کو مذہب ہی کنورزن کہا جاتا ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page