Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتبار سے مذہبی کنورزن فطرت کی وسیع تراسکیم کا صرف ایک جز ہے۔ یہ جز بھی اتناہی مطلوب اور ضروری ہے جتنا کہ اس کا کل۔ حقیقت یہ ہے کہ کنورزن فطرت کا قائم کردہ ایک عالم گیر قانون ہے۔ مادی دنیا کی تمام ترقیاں اسی کنورزن کے اصول پر ہو رہی ہیں۔ زندہ اشیاء (انسان اور حیوان) کا جسمانی ارتقا تمام تر اسی کنورزن کے اصول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح افکار کی دنیا میں ہزاروں سال سے جو ترقیاں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب اسی کنورزن کے اصول کو اختیار کرنے کی بنا پر ہو رہی ہیں۔ یعنی ایک چیز کو حق پا کر پوری طرح اختیار کر لینا۔ اس دنیا کا کوئی بھی ترقیاتی واقعہ اس کنورزن کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے جو کہ روحانی سچائی کا دوسرا نام ہے۔ وہی مذہب کسی انسان کا مذہب بن سکتا ہے جس کو کسی آدمی نے ذاتی تلاش کے نتیجہ میں دریافت کیا ہو۔ مذہب کا نہایت گہرا تعلق یقین سے ہے اور یقین کا تعلق دریافت (discovery) سے۔ دریافت کے بغیر یقین نہیں، اور یقین کے بغیر مذہب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر سچے مذہب کے ماحول میں پیدا ہو تب بھی وہ صرف آبائی تعلق کی بنا پر اس مذہب کو نہیں پا سکتا۔ مذہب کو بطور ایک یقینی صداقت کے پانا اس کے لئے صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس کو پائے، وہ ایک معلوم چیز کو دوبارہ دریافت (re-discover) کرے۔ کنورزن کی حقیقت کنورزن کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کچھ رسمی الفاظ ادا کرے۔ اور اپنا نام بدل کر ایک کلچرل گروپ کو چھوڑ کر دوسرے کلچرل گروپ میں شامل ہو جائے۔ کنورزن کا مطلب تبدیلیٔ مذہب نہیں بلکہ تبدیلیٔ شخصیت ہے۔ کنورزن یہ ہے کہ ایک آدمی تلاش حقیقت میں سرگرم ہو۔ تحقیق و جستجو کے تمام مراحل سے گزرے اور پھر اس کے نتیجہ میں اس کے اندر ایک نئی شخصیت کا ارتقا ہو۔ کنورزن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نئی شخصیت کے ظہور کا نام ہے۔ ایسی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page