کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
شخصیت کا بننا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جب کسی سماج میں بڑی تعداد میں پیدا ہو جائیں تو وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ ظہور میں لاتے ہیں۔ کنورزن در حقیقت ڈسکوری(دریافت) کے نتیجہ میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔ ایک عظیم ڈسکوری کے بعد آدمی وہی نہیں رہتا جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ اب وہ مکمل طور پر ایک نیا انسان ہوتا ہے۔ اسی قسم کی انقلابی تبدیلی کا نام کنورزن ہے۔ یہ تمام تر ذاتی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ کسی خارجی لالچ یا دباؤ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کنورزن کا مطلب یہ ہے کہ ایک نہ پایا ہوا انسان پایا ہوا انسان بن جائے۔ ایک بے خبر انسان باخبری کے دور میں پہنچ جائے۔ ایک سویا ہوا انسان اپنے حواس کے ساتھ جاگ اٹھے۔ ایک شخص جو اندھے پن میں جی رہا تھا وہ بینا بن کر جینے کے قابل ہو جائے۔ ایک شخص جس کو اپنی کوششوں کا مرکز نہیں ملا تھا اس کو اپنی کوششوں کا ایک معلوم مرکز مل جائے۔ ایک شخص جو محدود دنیا میں جی رہا تھا وہ لامحدود دنیا میں داخل ہو کر سانس لینے لگے۔ ایک شخص جو صرف اپنے جسم کے دائرہ میں جی رہا تھا وہ اس سے اوپر اٹھ کر فکر کی اعلیٰ سطح پر جینے کا سامان کرلے۔ ایک شخص جو بے مقصد حالت میں بھٹک رہا تھا اس کو با مقصد زندگی کا راز معلوم ہو جائے۔ صحت مند مقابلہ 99-1998 کے درمیان ہندوستان کی بعض ریاستوں (گجرات ، اڑیسہ) میں کچھ نچلی ذات کے ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائی ہو گئے۔ اس پر کچھ انتہا پسند ہندو بھڑک اٹھے۔ انھوں نے عیسائیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے عیسائیوں کے سیکڑوں گھروں اور گرجاؤں کو توڑ پھوڑ ڈالا۔ کئی عیسائیوں کو زندہ جلا کر مار دیا، وغیرہ۔ مذکورہ واقعہ پر ایک ردعمل کی مثال یہ تھی۔ دوسرے رد عمل کی مثال وہ ہے جو پروفیسر امرتیہ سین کی زندگی میں ملتی ہے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں ان کو اکنامکس کا نوبیل پرائز دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ہندوستان آئے تو مذکورہ قسم کے ہندوؤں نے ان کے بارے میں یہ کہنا شروع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader