Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا کہ امرتیہ سین کو جو نوبیل پرائز دیا گیا ہے وہ مغربی قوموں کی ایک سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امرتیہ سین کو اپنا ایجنٹ بنائیں اور ان کے ذریعہ ہندوستان میں عیسائی کنورژن کی تحریک کو فروغ دیں۔ جب وہ ہندوستان آئے تو یہاں کے ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ کے خلاف جو الزام لگایا گیا ہے اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ ٹائمنر آف انڈیا (۲۹ دسمبر ۱۹۹۸) کی رپورٹ کے مطابق، پروفیسر امرتیہ سین نے اس کا یہ جواب دیا: I am not expected to respond to something like this. کنورژن کے واقعہ پر کٹّر وادیوں کی مذکورہ منفی روش ہر پہلو سے قابلِ رد ہے۔ وہ اصولی اعتبار سے مکمل طور پر غلط ہے اور عملی اعتبار سے تباہ کن حد تک بے نتیجہ۔ صحیح رد عمل یہ ہے کہ اس واقعہ کو چیلنج کے روپ میں لیا جائے۔ اس معاملے کو اگر چیلنج کے روپ میں لیا جائے تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے بعد یہاں دونوں گروہوں کے درمیان صحت مند مقابلہ (healthy competition) جاری ہو جائے گا جو ہر اعتبار سے ملک و قوم کے لئے مفید ہوگا۔ اس سے پہلے انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اسی قسم کی صورت حال پیش آئی۔ اس وقت ملک میں نفرت کی فضا موجود نہ تھی اور نہ موجودہ قسم کے غیر سنجیدہ لیڈر اس وقت ہمارے یہاں پائے جاتے تھے۔ چنانچہ دونوں گروہوں کے درمیان خاموش طور پر ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔ دونوں ہی گروہوں میں ایسے لوگ اٹھے جنھوں نے اپنے اپنے مذہب کو زیادہ پرکشش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف ہندوؤں میں آرو بندو، سوامی وویکانند، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر رادھا کر شنن جیسے لوگ اٹھے۔ انھوں نے ہندو مذہب کو جدید اسلوب اور جدید اصطلاحوں میں پیش کیا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کو جدید انداز اور جدید دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔ اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان بلا اعلان ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page