Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں طرف سے تحریر اور تقریر کے ذریعہ مذہب کی ایسی نمائندگی کرنے کی کوشش کی گئی جو جدید ذہن کے لئے قابل قبول ہو سکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کنورژن کا مسئلہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) بن گیا۔ دونوں طرف کے مذہبی افکار میں ترقی ہوئی۔ دونوں کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچا۔ اب موجودہ صورت حال میں بھی ضرورت ہے کہ دوبارہ یہی صحت مند مقابلہ جاری کیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور انسانیت کی قدروں کو بڑھاوا دیا جائے۔ ملک کے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان پر امن ڈائیلاگ ہونے لگے۔ مذہبی تعارف کے لئے آل مذاہب کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات اور تاریخ پر علمی کتابیں مرتب کر کے شائع کریں۔ مذہب کے دائرے میں بھی وہی آزادانہ ڈسکشن ہونے لگے جو آج بھی سیکولر حلقوں میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ کنورژن کے سوال پر اس قسم کا رد عمل اگر سامنے آئے تو وہ ہر مذہبی گروہ کے لئے غیر معمولی فائدے کا باعث بنے گا۔ مذہبی مسائل زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔ سچائی کی تلاش کا ایک نیا عمل جاری ہو جائے گا۔ چھپی ہوئی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ مذہب کی دنیا کا جمود ٹوٹے گا اور ہر طرف زندہ مذہب کا ماحول قائم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ فطرت کے عام اصول کے مطابق ، یہ ذہنی بیداری صرف مذہب کے دائرے تک نہیں رہے گی بلکہ وہ بڑھتے بڑھتے عمومی دائرے تک پہنچ جائے گی۔ ایک اعتبار سے جمود و تعطیل کا ٹو ٹنا ہر اعتبار سے جمود و تعطیل کے ٹوٹنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ مذہب کی بیداری زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں بیداری لانے کا سبب بنے گی۔ یہاں تک کہ پورا ملک اس سے متاثر ہو گا، ایک قوم جو آج بظاہر سوئی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ پوری طرح جاگ اٹھے گی۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لئے ہو گا کہ ہم نے ایک مسئلہ کو چیلنج کے روپ میں لیا اور صحت مند مقابلہ کی صورت میں اس کا سامنا کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page