کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
کنورزن ــــــــ ایک صحت مند تاریخی عمل غالباً 1990ء میں نے ایک ہندوستانی رائٹر کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ اس کا نام کنورزن کی سیاست (Politics of Conversion) تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ اس کتاب سے مجھے کو صرف ایک اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ کتاب کا نام (ٹائٹل) درست نہیں۔ اس کا صحیح نام ہونا چاہئے: کنورزن کو سیاسی بنانا (Politicisation of Conversion) یعنی ایک سادہ فطری حقیقت کو سیاسی رنگ دے کر اس میں غیر ضروری طور پر سنسنی خیزی پیدا کرنا۔ کنورزن کیا ہے۔ عام طور پر کنورزن کو مذہب بدلنے (proslytism) کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کنورزن اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کنورزن فطرت کا ایک آفاقی قانون ہے۔ وہ ایک صحت مند تاریخی عمل ہے جو ناگزیر طور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کنورزن کو روکنے کی کوشش کرنا گویا تاریخ کو روکنے کی کوشش کرنا ہے اور کوئی بھی اتنا طاقتور نہیں کہ وہ تاریخ کے عمل کو روک سکے۔ کنورزن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دو چیزوں کے ٹکراؤ سے ایک اور چیز کا پیدا ہونا ہے۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ایک آفاقی قانون ہے جو خود اپنے زور پر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عمل اس کے اندر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ کارل مارکس نے اس کو غلط طور پر جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) سے تعبیر کیا تھا۔ زیادہ صحیح طور پر یہ ڈائیلاگ۔ کنورزن پر اس ہے۔ یعنی جب دو فکری نظام کے درمیان بحث و تبادلہ ہوتا ہے تو اس کے بعد ایک فکری انقلاب بر آمد ہوتا ہے۔ ڈائیلاگ۔ کنورزن پر اس کا یہ عمل ہی تمام انسانی ترقیوں کا واحد زینہ ہے۔ جب بھی دنیا میں کوئی تہذیبی انقلاب آیا ہے یا کسی انسانی گروہ نے اٹھ کر کوئی تخلیقی کارنامہ انجام دیا ہے تو وہ ہمیشہ اسی ڈائیلاگ۔ کنورزن پر اس ہی کے ذریعہ ظہور میں آیا ہے۔ اس عمل کی کوئی ایک صورت نہیں۔ یعنی یہ مذہبی بھی ہو سکتا ہے اور غیر مذہبی بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader