Urdu book · تعمیر انسانیت

کنورزن کا مسئلہ

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلے ڈیڑھ ہزار سال کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک مذہبی کنورزن کی صورت میں اور دوسری سیکولر کنورزن کی صورت میں۔ عربوں کی تاریخ مذہبی کنورزن کی مثال ہے۔ چھٹی صدی عیسوی تک عرب ایک مشرکانہ نظام کے تحت محدود قبائلی زندگی گزار رہے تھے۔ اس کے بعد ساتویں صدی کے آغاز میں اسلام یعنی دین توحید کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دین شرک اور دین توحید کے درمیان زبردست ڈائیلاگ (بحث و مباحثہ) شروع ہوا۔ یہ ڈائیلاگ مزید شدت اختیار کر کے جارحانہ تصادم تک پہنچ گیا۔ اس ڈائیلاگ اور تصادم کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی سوچ ابھری۔ بڑھتے بڑھتے وہ ایک عظیم فکری انقلاب بن گئی۔ اس ذہنی انقلاب یا اس فکرموکی دریافت کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے اندر ایک نئی شخصیت ابھری۔ ایک یورپی مورخ کے الفاظ میں، ان میں کا ایک ایک شخص اس طرح انقلابی شخصیت بنا کہ پوری قوم ہیروز کی ایک قوم (a nation of heroes) بن گئی۔ ہیروز کی اس قوم نے صرف پچاس سال کے اندر وہ تاریخی واقعہ برپا کیا جس کو ایک مورخ نے (miracle of all miracles) معجزات کا معجزہ قرار دیا ہے۔ بریفالٹ نے اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے کہ عربوں کے بغیر جدید مغربی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہیں آسکتی تھی : But for the Arabs, the western civilization would never have arisen at all. دوسری مثال یورپ کی مسیحی قوموں کی ہے۔ صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد کئی سو سال کے تاریخی عمل کے دوران یہاں بھی ایک کنورزن ہوا۔ یہ کنورزن مذہبی نہیں تھا بلکہ ایک قسم کا سیکولر کنورزن تھا۔ چرچ اور سائنس کے درمیان زبردست مقابلہ پیش آیا۔ اس مقابلہ کی ایک روداد مندرجہ ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے : Conflict between Science and Religion یہ مقابلہ ڈائیلاگ اور ٹکراؤ کی صورت میں کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page