کنورزن کا مسئلہ
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
قوموں کے اندر ایک نیا فکری انقلاب آیا جس میں انھوں نے قدیم کو چھوڑا اور جدید کو اختیار کر لیا۔ اس انقلاب کو عام طور پر نشأۃ ثانیہ (renaissance) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس انقلاب نے یورپی قوموں کو اُس قابل بنایا کہ وہ تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام دے سکیں۔ وہ تاریخ انسانی کو روایتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں پہنچادیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کا دماغ لامحدود طاقتوں کا ایک قدرتی خزانہ ہے۔ عام حالات میں یہ دماغ سویا ہوا رہتا ہے۔ یہ صرف خارجی جھٹکے ہیں جو اس کو بیدار کرتے ہیں۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ کا ایک عمل ہے۔ جتنا بڑا شاک ہو اتنا ہی بڑا ذہنی انقلاب انسان کے اندر پیدا ہوگا۔ یہ شاک ٹریٹمنٹ انسان کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو نفسیات کے علماء دماغی طوفان (brainstorming) کہتے ہیں۔ یہ دماغی طوفان آدمی کے اندر ایک نئی فکری تبدیلی، ایک نیا کنورزن، وجود میں لاتا ہے۔ یہ کنورزن کسی قوم کے افراد کو ایک عام انسان سے اٹھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے اور پھر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔ مذہی کنورزن اس پورے عمل کا ایک چھوٹا سا جز ہے۔ تاہم جب ڈائیلاگ۔ کنورزن پر اس چلتا ہے تو اس کو کسی حد کا پابند کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ لوگ فلاں فلاں قسم کا کنورزن کریں، لیکن مذہی کنورزن نہ کریں۔ یہ ایک لامحدود سیلابی عمل ہے۔ اور سیلاب جب آتا ہے تو وہ کسی حد بندی کو قبول نہیں کرتا۔ جہاں تک مذہی کنورزن کا تعلق ہے وہ صرف غیر مذہب کو قبول کرنے کے ہم معنی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہی کنورزن کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک ان فیتھ کنورزن، دوسری انٹر فیتھ کنورزن۔ مثال کے طور پر سوامی وویکانند پہلے ایک ماڈرن قسم کے نریندر نا تھ تھے۔ پھر رام کرشنا پرم ہنس سے ان کا ذہنی ٹکراؤ ہوا جس کے بعد وہ سوامی وویکانند بن گئے۔ یہ داخلی کنورزن (انرفیتھ کنورزن) کی ایک مثال ہے۔ اس طرح اسی زمانہ کے ایک اور بنگالی ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیائے (حیدر آباد) کا فکری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader