Urdu book · تعمیرملت

اسلام کا طریقہ حقیقت پسندی کا طریقہ ہے

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

کا تقاضا، دوسرے امتحان کا۔ انسان کی حالت امتحان میں ہونے کا پہلو تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے سارے اختیار اور اپنی تمام امکانیات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف عبدیت کا پہلو زور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہر حال میں آدمی اللہ پر بھروسہ رکھے، اپنے کو یا اپنی تدیروں کو کچھ نہ سمجھے۔ اسباب کا اہتمام ہمارے حالت امتحان میں ہونے کا اظہار ہے اور اللہ پر اعتماد ہماری حالت عبدیت کا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب مکہ کے حالات اس حد تک سخت ہو گئے کہ لوگوں نے آپ کے قتل کا ارادہ کر لیا تو آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یثرب (مدینہ) چلے گئے ۔ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر کے لئے آپ نے ہر قسم کا ممکن اہتمام فرمایا ـــ سفر کے ہر جزو کو مکمل طور پر راز میں رکھا۔ عام شاہراہ کے بجائے غیر معروف راستہ سے سفر فرمایا۔ مکہ سے رات کے وقت پیدل نکلے اور سواری کا انتظام آگے ایک صحرائی مقام سے کیا۔ آپ کو مدینہ جانا تھا جو مکہ سے شمال کی جانب واقع ہے۔ مگر آپ نے اس کے الٹی طرف جنوبی سمت میں سفر فرمایا۔ مکہ کے باہر چند میل جاکر ایک سنسان پہاڑی غار (ثور) میں تین دن ٹھہرے رہے جو اتنا تنگ تھا کہ آدمی صرف لیٹ کر اس کے اندر داخل ہو سکتا تھا۔ وغیرہ وغیرہ ۔ آپ جب ابو بکر صدیق کے ساتھ غار ثور میں مقیم تھے ، قریش کے کچھ لوگ آپ کو ڈھونڈتے ہوئے غار کے کنارے تک پہنچ گئے۔ آہٹ پا کر ابو بکر صدیق نے کہا، دشمن اتنے قریب آچکا ہے کہ اگر اٹھوں نے جھک کر اپنے قدموں کے نیچے کی طرف دیکھا تو وہ ہم کو پالیں گے۔ آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا : ما ظنك باثنين يا ابا بكر الله ثالثهما ابوكرا ان دو کی نسبت تمھار اکیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو اس واقعہ میں نبوت کا مقام نظر آ رہا ہے ۔ ایک طرف تدبیر کمال درجہ پر ۔ دوسری طرف اللہ پر اعتماد کمال درجہ پر۔ یہی نبوت کی شان ہے۔ پیغمبر اس شان عبدیت میں کمال درجہ پر ہوتا ہے۔ پیغمبر کے ساتھیوں اور فیض پانے والوں میں بھی یہ اوصاف درجہ بدرجہ پیدا ہوتے ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page