کیسی عجیب خیرامت
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
کیسی عجیب خیرامت لا مسلمان جب تک معاشی اور تعلیمی میدانوں میں برادران وطن کے برابر نہ ہو جائیں ان کو مظلوم اور محروم طبقہ قرار دے کر ان کو پس ماندہ فرقوں کی طرح مراعات اور سہولتیں دی جائیں، یہ وہ مطالبہ ہے جو پچھلے چند سالوں سے تمام مسلم جماعتوں کی طرف سے حکومت سے کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے لیڈر اگر فی الواقع اپنے مطالبہ میں سچے ہیں تو اس اصول کو سب سے پہلے انھیں خود اپنے درمیان جاری کرنا چاہیے۔ ہر لیڈر جو اس حال میں ہے کہ اس کے گرد و پیش (خاندان کے اندر یا باہر) کچھ لوگ اس کے مقابلہ میں معاشی حیثیت سے پچھڑے ہوئے ہیں، اس کو چاہیے کہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اس وقت تک ان لوگوں کے لئے وقف رکھے جب تک یہ پس ماندہ لوگ معاشی حیثیت سے اس کے برابر نہ ہو جائیں۔ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے قائدین اگر خود اپنے درمیان اس اصول کو جاری کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو وہ کیوں کر امید رکھتے ہیں کہ اپنی ” حریف قوم “ سے وہ اس کو منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ عجیب بات ہے کہ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے قائدین اسی کے ساتھ مسلمانوں کے ” خیرامت “ ہونے کا ذکر بھی زور شور کے ساتھ کرتے ہیں اور فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان کا منصب یہ ہے کہ وہ سارے عالم کو نظام کو درست کرے اور اس کو خیر و صلاح سے بھر دے۔ کے ساتھ وہی وہ آسمانی گروہ ہو جس سے دنیا اپنی اصلاح و ترقی کی امید رکھے۔ ہماری ملی مشکلات کا سبب دراصل ہماری اپنی کو تاہیاں ہیں۔ ہم جدید اقتصادیات میں اپنی جڑیں قائم نہ کرسکے۔ ہم وقت کی تعلیم میں پیچھے ہو گئے ۔ بے معنی اندرونی نزاعات نے ہم کو اتحاد سے محروم کر رکھا ہے۔ ہمارے سامنے کوئی ایسا قابل عمل مشن نہیں جس میں ہمارے افراد اپنی ذہنی اور عملی قوتوں کا ن نکاس پاسکیں ۔ ہمارے قومی کردار کا حال یہ ہے کہ جب بھی کسی معاملہ میں ہمارے صبر، تحمل ، محنت دیانت داری ، خیر خواہی، انصاف، بلند حوصلگی اور وسعت قلبی کا امتحان ہو تو اصاغرسے لے کر اکابر تک سب نا کام ثابت ہوتے ہیں۔ یہ داخلی کمزوریاں ہی ہمارا اصل مسئلہ ہیں اور ان کی اصلاح کے لئے خاموش جد وجہد کرنے کا نام ہے۔ مگر ہمارے کسی رہنما کو اس قسم کی تعمیری جد وجہد میں لگنے سے دل چسپی نہیں ، البتہ طرح طرح کی بوئیاں بول کر وہ لوگوں کے ذہنوں کو الجھائے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہوا سنائی دیتا ہے کہ ہم کو حفاظت خود اختیاری کے تحت اپنا مسئلہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے ۔ کسی نے اسلام کے کچھ سیاسی قصائد یاد کر لئے ہیں اور وہ بس انھیں کو دہرا رہاتا ہے۔ کوئی جا بجا تقریری نمائش گاہیں کھڑی کرنے میں جگمگاتا ہوا مستقبل دیکھ رہا ہے۔ کوئی شتر مرغ کی طرح خیالی پناہ گاہیں بنانے میں مصروف ہے۔ کوئی احتجاج اور مطالبات کی رٹ لگائے رکھنے کو کام سمجھتا ہے۔ مگر اس قسم کی ہر بات صرف اپنی بر بادیوں کیسی عجیب ہوگی وہ خیرامت جس کا حال ایک طرف یہ ہو کہ اپنے کو "مظلوم اور محروم" طبقہ قرار دے کر دنیا والوں سے رعایتوں کی خیرات مانگ رہی ہو۔ اور اسی حصہ ہے۔ کو دائمی بنانے کے ہم معنی ہے ۔ یہ محض کچھ الفاظ ہیں اور جو مسئلہ عمل کی کمی سے پیدا ہوا ہو اس کو الفاظ بول کر حل نہیں کیا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader