ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں کہا جاتا ہے کہ جاپانی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو ” کام “ کے مفہوم کو بتاتے ہیں۔ مگر ابھی حال تک جاپانی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہ تھا جو ” فرصت “ کے مفہوم کو ادا کرتا ہو۔ غالباً یہ وہی عامل ہے جس نے جاپانی قوم کو دنیا میں سب سے زیادہ محنتی قوم بنا دیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی اقتصادیات بالکل برباد ہوگئی تھیں ۔ مگر جاپانی محنت نے معجزہ دکھایا ۔ جنگ کے صرف ۲۵ سال بعد جاپان نے اقتصادی حیثیت سے دنیا کے چند انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں جگہ حاصل کرلی ۔ مسلمانوں کا معاملہ ایک اور پہلو سے دل چسپ کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ADIUSTMENT لئے کوئی لفظ نہیں ۔ پچھلے دو سو برس سے ہندوستانی مسلمانوں پر احتجاج اور ٹکراؤ کی سیاست اتنی زیادہ چھائی رہی ہے کہ اردو زبان میں اُس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی لفظ ہی نہ بن سکا جس کو انگریزی میں ADJUSTMENT کہا جاتا ہے ۔ " بازمانہ سٹیز " کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ہمارے یہاں درجنوں الفاظ ہیں ۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے لئے ADJUSTMENT ہمارے یہاں کوئی ایک لفظ بھی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان آج سب سے زیادہ لڑنے جھگڑنے والی قوم بن گئے ہیں ۔ حالات سے ہم آہنگی کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالنا جیسے ان کو آتا ہی نہیں۔ ان کی جنگ جو یا نہ تحریکوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انہیں خبر ہی نہیں کہ زندگی کا راز ایڈ جسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں ۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں ایک عجیب مشکل یہ پیدا ہوئی ہے کہ کوئی خدا کا بندہ اگر یہ کہتا ہے کہ ملی مقاصد کے حصول کے لئے جو منصوبہ بناؤ ، حالات سے ہم آہنگ ہو کر بناؤ تو یہ بات ان کی سمجھ میں آتی ہی نہیں۔ اس قسم کی آواز حقیقتاً " ایڈ جسٹمنٹ کی آواز ہوتی ہے مگر سننے والے اس کو " چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی" کے معنی سمجھ لیتے ہیں ۔ کیوں کہ جن الفاظ سے وہ مانوس ہیں انہوں نے ان کو دوسری مفہوم سے آشنا کیا ہے : زمانہ سے لڑنا یا ہوا کے رخ پر چلنا۔ ان دو کے علاوہ کسی تیسرے رویہ کو وہ جانتے ہی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader