تعمیرملت
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
کام صلوہ و منہ خون نہ شد سے لائیں، پھر اسے موٹا کر کے نیل کام طرف وہ ہے جو خود اپنے مثبت فکر کے زور پر وجود میں آئے۔ خارجی حالات کے خلاف رد عمل کے طور پر جو چیز ظاہر ہو، وہ کام نہیں، جذباتی ابال ہے۔ اس قسم کا جذباتی ابال وقتی شوروشر تو ضرور پیدا کر سکتا ہے ۔ مگر اس سے کسی حقیقی نتیجہ کی امید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کتے کی بھونک سے بلبل کے نغمہ کی توقع کی جائے۔ نادانی کی چھلانگ حکایت ہے کہ کسی زمانہ میں بہت بڑا سیلاب آیا۔ ایک بندر اور ایک مچھلی اس میں پھنس گئے۔ بندر تیز تھا۔ چھلانگ لگا کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ پر جا بیٹھا جہاں وہ سیلاب کی طوفانی موجوں سے محفوظ تھا۔ اب اس نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ مچھلی امڈتی ہوئی لہروں کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس نے سمجھا کہ مچھلی طوفان میں پھنس گئی ہے۔ وہ پوری ہمدردی اور نیک نیتی کے ساتھ نیچے آیا اور مچھلی کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔ نادان دوستی کی یہ تمثیل ایڈیسن کی زندگی میں وقعہ بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈیسن ایک کتا پالے ہوئے تھا جو اس کو بہت محبوب تھا۔ ایک روز ایڈیسن کا کتا اس کے مطالعہ کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ میز پر اس کے ضروری کاغذات پھیلے ہوئے تھے اور کروسین کا لیمپ جل رہا تھا۔ ایک پتنگا کہیں سے کمرے میں داخل ہو گیا اور لیمپ کے گرد منڈلانے لگا۔ کتا دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ آخر اس کو گوارا نہ ہوا کہ اس کے آقا کی میز پر ایک پتنگا قابض ہو جائے ۔ اس نے اس کو پکڑنے کے لئے ایک چھلانگ لگائی۔ پتنگا تو اڑ گیا، البتہ لیمپ الٹ گیا اور میز پر تیل پھیل جانے کی وجہ سے فوراً آگ لگ گئی اور کا غذات جل گئے ۔ ایڈیسن نے دیکھا تو کہا: " میرے محبوب کتے ! تجھے نہیں معلوم کہ تو نے کیا کیا؟" موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں نے بھی حیرت انگیز طور پر اسی قسم کے کارنامے دکھائے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اصلاح ملت اور احیائے اسلام کا نعرہ لے کر اٹھا۔ مگر ہر ایک نے ایسی نادانی کی چھلانگیں لگائیں کہ اصل مقصد تو حاصل نہیں ہوا البتہ نئے نئے مسائل اور نئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں جس کے نتیجہ میں مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ گمبھیر ہو گیا۔ نادانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader