Urdu book · تعمیرملت

کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہوتا ہے

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی سیاست کو ترک کرنے ہی کا نام سیاست ہوتا ہے اکتوبر سنہ ۱۹۴۴ء میں دوسری عالمی جنگ اپنے شباب پر تھی۔ امریکہ، بحر الکاہل کے جزائر کو فتح کرتے ہوئے جاپان کے دروازہ تک پہنچ چکا تھا۔ اس وقت جاپان کے نائس ایڈمرل اونی شی (TAKİJİORO ONISHI) نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا : " میرے خیال سے اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے جس میں ہم یقین کر سکیں کہ ہماری معمولی طاقت زیادہ سے زیادہ موثر بن سکتی ہے۔ وہ یہ کہ ہم " زیرو فائٹرس " کا ایک دستہ بنائیں جو ۲۵۰ کلو گرام بم لے کر دشمن کے سمندری جنگی جہازوں پر اپنے آپ کو گرادیں " اونی شی کی یہ تجویز ہوابازوں تک پہنچائی گئی۔ فی الفور منظوری کا فیصلہ ہو گیا۔ ہوابازوں کا ایک دستہ بنایا گیا جس کا نام تھا کامی کینر (KAMIKAZE) یہ ایک جاپانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں " خدائی آندھی " یہ نام اس لئے اختیار کیا گیا کیونکہ تیرہویں صدی میں قبلائی خاں کے حملہ سے " ایک خدائی آندھی نے جاپان کو بچایا تھا " جس میں اس کی جنگی کشتیاں ایک سمندری طوفان نے تباہ کر ڈالی تھیں۔ ساتھ یہ قربانیاں دی تھیں ، اس کا اندازہ ایک خط سے ہوگا ۔ سوسومو (SUSUMU KIJITSU) اسی قسم کا ایک ۲۲ سالہ جاپانی ہواباز تھا جس نے ایک بم لے کر اپنے ہوائی جہاز کو دشمن کے ایک سمندری جنگی جہاز پر گرایا تھا، اس نے آخری دن اپنے دفتر سے اپنے خاندان کو حسب ذیل خط لکھا : ” میرے پیارے والدین ، پیارے بھائیو اور میری پیاری بہن ! یقیناً آپ کو اس کا علم نہیں ہوگا، مگر چند دن پہلے میں نے آپ کو الوداع کہی ہے جب کہ میں اپنے گھر کے اوپر پرواز کر رہا تھا، میرے جہاز کے بازوؤں کے سایہ نے ہمارے مکان کی چھت کو چھوا۔ میرے خیالات ہمہ تن آپ کی طرف لگے ہوئے تھے۔ میں جانتا ہوں کہ بہت جلد میرا وقت آجائے گا۔ مگر مجھے موت کا ڈر نہیں۔ مجھے صرف یہ فکر ہے کہ میرا عمل کیا جاپان کو بچانے کے لئے مفید اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہماری قربانیاں ہمارے بعد کی نسلوں کے لئے فتح لے آئیں گی۔ ہم نہایت پرسکون ہیں۔ ہم اکثر مذاق کرتے ہیں اور اپنا وقت پڑھنے اور تاش کھیلنے میں گزارتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے غمگین نہ ہوں ۔ اس کے برعکس آپ کو فخر کرنا چاہئے کہ میرا جسم اگرچہ جلدی ختم ہو جائے گا مگر میری روح ہمیشہ آپ کے پاس رہے گی۔ ۔ ۔ ۔ اب میرے پاس لکھنے کو اور کچھ نہیں ہے۔ اگست ۱۹۴۵ء میں جنگ ختم ہوئی تو پانچ ہزار کی تعداد میں جاپانی ہوایاز اس طرح اپنی جانیں دے چکے تھے۔ الوداع، الوداع ،کیونکہ آخر وقت کی گھنٹی بج چکی ہے۔ (آپ کا بیٹا اور بھائی سسومو) انھوں نے اکتوبر ۱۹۴۴ء اور جون ۱۹۴۵ء کے درمیان ۴۳ امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جاپان کے بہادر ہوابازوں نے کن جذبات کے تاہم تاریخ کی یہ انوکھی قربانی جاپان کو بچانے والی ثابت نہ ہوسکی ۔ کیوں کہ دشمن کے پاس ایک اور برتر طاقت تھی جس کے مقابلہ میں جاپانی ہو ابازوں کی یہ لامثال قروانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page