Urdu book · تعمیرملت

طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمت نہیں ہارتی اور ہر بار دوبارہ اسی کام میں مشغول ہو جاتی جس میں وہ اس سے پہلے ناکام ہو چکی تھی ۔ رابرٹ بروس اس کے ناکام تجربات کو گنتا رہا ۔ یہاں تک کہ جب وہ نویں بار زمین پرگری تو اس کو ہنسی آ گئی ۔ اب یہ کیڑا مزید کوشش کی حماقت نہیں کرے گا ، اس نے کہا۔ مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مکڑی نے ایک لمحہ ٹھہرے بغیر دسویں بار پھر اپنی جدوجہد شروع کر دی ۔ اس بار رابرٹ بروس کے سامنے دوسرا منظر تھا اس نے دیکھا کہ مکڑی منزل سے بہت قریب پہنچ گئی ہے وہ دھیرے دھیرے چڑھتی رہی یہاں تک کہ جب فاصلہ بہت قریب آگیا تو اس نے آخری چھلانگ لگائی آب وہ اپنے جاندار مکان کے اندر تھی ۔ ”خوب “ رابرٹ بروس چلایا ”وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہمت نہ ہاریں اور مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھیں “ وہ ایک لمحہ کے لئے رُکا اور پھر بولا ” ایک معمولی کیڑے نے مسلسل کوشش سے اپنی بازی جیت لی۔ پھر میں کیوں ایسا نہیں کر سکتا ۔“ رابرٹ بروس غار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے آخری فیصلہ کن مقابلہ کے لیئے تیاری شروع کر دی۔ وہ نئے عزم کے ساتھ شاہ انگلینڈ سے لڑا اور اس بار اس نے فتح حاصل کرلی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ”میں ایسا نہیں کر سکتا “ محض ایک بزدلانہ فقرہ ہے ہر شخص ہر کام کر سکتا ہے اور شکست دوبارہ نئی فتح میں تبدیل ہو سکتی ہے بشطیکہ مسلسل جدوجہد سیب کا سبق ایک ٹن سیب سے کتنا عرق نکالا جا سکتا ہے ۔ کوئی بھی پھلوں کا ماہر آپ کو بتائے گا کہ ۰۷ سے ۷۵۰ کلوگرام تک ۔ مگر سیب میں حقیقتاً اس سے بہت زیادہ عرق ہوتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ موجودہ ذرائع کے تحت جب ہم سیب کو مکمل طور پر نچوڑ چکے ہوتے ہیں ، اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ٹن میں ۱۰۰ سے ۱۲۰ کلوگرام تک عرق باقی رہتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کولھو اچھے نہیں ہیں۔ نہیں۔ اگر ہم سب سے طاقتور برقی کولھو استعمال کریں جب بھی عرق کی مقدار میں بس برائے نام ہی فرق آئے گا۔ سیب کے اندر بچا ہوا عرق پھر بھی ہمیں حاصل نہ ہو سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کے خلیوں کا چھلکا بے انتہا دباؤ کے تحت بھی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے۔ اور کولھو میں پس جانے کے باوجود اس کا عرق خلیوں کے اندر محفوظ رہتا ہے موجودہ حالت میں دباؤ اور طاقت کا اضافہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرتا ۔ یہ سیب کا قصہ ہے مگر اس کے اندر آپ قوموں کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک قوم وہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی دباؤ کی زد میں آجائے تو آخری حد تک نچوڑ کر رہ جاتی ہے ۔ مگر زندہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اگر وہ ظلم و ستم کے کولھو میں پیس دی جائیں جب بھی سیب کی طرح ، ان کے اندر زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی وہ دوبارہ زرارہے ، نیکی ہے ، بدی ہے اور تقدیر ہے ، تقدیر کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے ۔ دربانی رہاہے اور اس بات پر ہارہ برابر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page