Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت ہے، وہ براہِ راست اور بالواسطہ طور پر خدا نے پہلے سے تیار کر کے رکھ دی ہے۔ مثلاً انسانی خدمت کے لیے گھوڑے اور دوسرے جانور براہِ راست عطیات ہیں، جب کہ ہوائی جہاز بالواسطہ انداز میں نیچر میں پوٹنشل (potential) طور پر رکھ دیے گئے تھے، جو دورِ جدید میں دریافت ہوئے۔ ہوا کے ذریعے آواز کا سفر براہِ راست عطیے کی ایک مثال ہے، جب کہ الیکٹرانک آلات کے ذریعے اس کی ترسیل بالواسطہ عطیہ ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے تا کہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (16:8)۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کی اس طرح تربیت کریں کہ زندگی کا ہر تجربہ اور آس پاس کا ہر واقعہ ان کے لیے شکر کا آئٹم بن جائے۔ شکر کا ایروژن ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کو گھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ باشعور ہونا چاہیے۔ مومن کے لیے شکر کا ایروژن (erosion) ناقابلِ برداشت ہونا چاہیے۔ اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99 فی صد شکر کی بات ہو اور صرف ایک فی صد منفی بات تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک فی صد منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99 فی صد مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ فوراً یہ کہے کہ: رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِين (23:97)۔ یعنی، اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page