Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر کا ایروزن

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

سے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ، شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدہ کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔ میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کو سرتا سر بے اصل سمجھے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہتاً قابلِ رد(prima facie its stands rejected) سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔ مثلاً 19 اکتوبر 2009 کا واقعہ ہے۔ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر کا سفر ہوا۔ ہم لوگ تین آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ائیر پورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک ان (check-in) کر دیا۔ قطر کے اس سفر میں غیر معمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اس چار روزہ سفر میں ہم کو غیر متوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں (facilities) حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ائر لائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اس عاجز انسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔ دہلی ائر پورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے ۔ خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اور میں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کر سکتا تھا۔ خدایا، اگر دنیا کے تمام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page