تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت میرے لیے قلم بنا دیے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میرے احسانا ت کو لکھنے بیٹھتا تو یقیناً ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہو جاتے اور تمام سمندر خشک ہو جاتے، تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔ یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اُس وقت میں نے سوچا کہ قرآن (31:27) میں جو یہ بات کہی گئی ہے ، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے ، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار ہے۔ وہ علمِ الہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندۂ مومن کا احساس ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبّر کرکے انعامِ خداوندی کو اس طرح دریافت کرے کہ واقعۃً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذباتِ حمد کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ دورِ شکر نومبر 1992ء میں میرا ایک سفر ناگپور کے لیے ہوا۔ 8 نومبر کو میں نے فجر کی نماز نظام الدّین کی سات سو سالہ قدیم کلاں (کالی) مسجد میں پڑھی تھی۔ پھر ظہر کی نماز میں نے دہلی ایرپورٹ پر پڑھی، اور عصر کی نماز ناگپور پہنچ کر ادا کی۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے جو ہر روز بہت سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق چھپا ہوا نظر آیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میں دہلی میں بھی اسلامی عبادت کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اسی طرح میں راجدھانی کے ایرپورٹ پر بھی اسلامی عبادت آزادانہ طور پر کر سکتا تھا۔ اور دہلی سے گیارہ سو کلو میٹر دور ناگپور میں بھی یہ آزادی حاصل تھی کہ میں اطمینان کے ساتھ اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کروں۔ پھر اس کا مقابلہ میں نے قدیم مکی دور سے کیا جب کہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader