تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت پیغمبر اسلام اور اہلِ اسلام کو یہ آزادی حاصل نہ تھی کہ کھلے طور پر وہ نماز ادا کر سکیں۔ حتیکہ نماز باجماعت ادا کرنے کے مواقع بھی اس وقت موجود نہ تھے مگر آج تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر دینی آزادی حاصل ہے۔ یہ واقعہ میرے لیے ایک علامت بن گیا جس میں مجھے اسلام کی تاریخ آگے کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مجھے دکھائی دیا کہ آج مسلمانوں کی حالت لائق شکر ہے، نہ کہ لائق شکایت۔ آج ہم اسلام کے حوصلہ افزا مرحلہ میں ہیں، نہ کہ حوصلہ شکن مرحلہ میں۔ میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے انسانوں (بشمول مسلمان) کے لیے ہر اعتبار سے کتنی زیادہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے وہ شکر ہے۔ سائنسی دریافت، صنعتی انفجار، اور مذہبی آزادی کے اس دور میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے، مگر برعکس طور پر ایسا ہوا کہ وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے والا بن گیا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کا کوئی فرق نہیں ہے۔ محرومی ایک نعمت مئی 2000ء میں، میں نے بہار کا سفر کیا۔ اس سفر میں مجھے بتیا (بہار) کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ یتیم خانہ 1928ء سے قائم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں۔ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام کے لیے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لیے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لیے وہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader