Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لیے اور کیا چیز ملنی چاہیے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى (6 :93)۔ یعنی کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا، پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا۔ اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لیے ایک ماؤی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ یتیموں کو ماؤی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبہ خداوندی سمجھتا ہوں۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا۔ میرے رشتہ داروں نے مجھے یتیم خانہ میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر خود کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لیے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسروں سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیر و بنا دیتے ہیں۔ منفی تجربہ سے مثبت تجربہ میں جس روحانی مدرسہ فکر کو مانتا ہوں وہ روایتی روحانیت سے مختلف ہے۔ اس دوسرے مدرسہ فکر کے مطابق، آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے منفی تجربات کو کنورٹ کر کے ان کو مثبت تجربے کی شکل دے۔ وہ مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کر سکے۔ وہ ایک غیر روحانی واقعے کو روحانی واقعے کی صورت دے دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page