Urdu book · تعمیرِ شخصیت

منفی تجربہ سے مثبت تجربہ

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ وہی اصول ہے جس پر انسان کے باہر کی پوری مادی دنیا قائم ہے۔ اس اصول کو تبدیلی کا اصول (principle of conversion) کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر پانی کیا ہے، دو گیسیں جو اپنے آپ میں پانی نہیں ہیں وہ مل کر ایک اور چیز کی شکل اختیار کرتی ہیں جس کو ہم سیال پانی کہتے ہیں۔ درخت کیا ہے، درخت دراصل غیر نباتی چیزوں کے کنورژن کا نتیجہ ہے۔ اسی کی ایک مثال گائے ہے۔ گائے اپنے جسم میں دودھ نہیں داخل کرتی۔ بلکہ وہ اپنے جسم کے اندر گھاس داخل کرتی ہے۔ پھر مخصوص نظام کے تحت، یہ گھاس کنورٹ ہو کر دودھ بن جاتی ہے۔ گویا کہ گائے ایک ایسی انڈسٹری ہے جو نان ملک کو ملک میں تبدیل کرتی ہے۔ اسی حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے: کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں کہا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ سے ملا۔ وہ کسی بات پر بزرگ سے غصہ ہو گیا۔ بزرگ اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی اٹھا اور اپنے پاؤں سے بزرگ کے سینے پر مار دیا۔ یہ بزرگ کے لیے ایک منفی ردِ عمل کا واقعہ تھا۔ مگر انھوں نے اس منفی واقعے کو ایک مثبت تجربے میں تبدیل کیا اور اس آدمی سے کہا میرے آہنی سینے سے تمہارے نرم پاؤں کو چوٹ تو نہیں لگی (واضح ہو کہ یہ ایک قصہ ہے، نہ کہ ایک واقعہ)۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جب کسی بندے کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس پر صبر کر لے تو خدا اس کے گوشت کو ایک اور بہتر گوشت اور اس کے خون کو ایک اور بہتر خون بنا دیتا ہے (أَبْدَلْتُهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ) حليۃ الاولياء لابي نعيم الاصبهانی، جلد 7، صفحہ 117۔ یہ تبدیلی فزیکل معنوں میں نہیں ہوتی بلکہ وہ اسپرچول معنوں میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبتوں پر صبر و شکر کا رسپانس پیش کرنا آدمی کے لیے ایک روحانی تربیت بن جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page