Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یہ اس کو منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دشمنی کرنے والے انسان کے بجائے محبت کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو پست سطح پر جینے والے انسان کے بجائے اونچی سطح پر جینے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دو طرفہ اخلاقیات (bilateral ethics)کے بجائے، یک طرفہ اخلاقیات(unilateral ethics) کا حامل بنا دیتا ہے۔ مالداری، غریبی الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر امارات کا سفر ہوا۔ یہ سفر 5 مئی 2004ء کو شروع ہوا اور 10 مئی 2004 کو ختم ہوا۔ اس سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ابھی دبئی کے امیر لوگوں کو دیکھا ہے۔ یہاں غریب لوگ بھی ہیں۔ ان غریب لوگوں سے آپ کی ملاقات نہ ہوسکی۔ اگر آپ ان کو دیکھتے تو آپ جانتے کہ یہاں معاشی فراوانی کے ساتھ معاشی عدم مساوات بھی موجود ہے۔ میں نے کہا کہ میں دیکھے بغیر اس حقیقت کو جانتا ہوں۔ مجھ کو معلوم ہے کہ نہ صرف دبئی بلکہ ہر ملک میں، جنتیلی لندن اور نیویارک میں بھی "غریب" لوگ موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشی فرق فطرت کا ایک قانون ہے۔ وہ کسی سرمایہ دار یا کسی حکومت کا پیدا کردہ نہیں، بلکہ خود خالقِ فطرت کا پیدا کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس اور اس کے انقلابی ساتھی ہر قسم کی اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود دنیا میں معاشی مساوات نہ لا سکے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ خدا نے تقسیمِ رزق میں ایک دوسرے کے درمیان فرق رکھا ہے(43:32)۔ اس فرق کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ اسی فرق سے انسانی سماج میں مسابقت اور چیلنج کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اسی فرق کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں حالت امتحان قائم رہے اور لوگوں کی جانچ ہوتی رہے۔ اسی فرق کی بنا پر لوگوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ صبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page