تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
اور شکر جیسی نیکیاں اپنے نامۂ اعمال میں درج کرا سکیں ۔ اسی فرق کی بنا پر سماجی فلاح اور انسانی خدمت جیسی سرگرمیاں برابر جاری رہتی ہیں ۔ اسی فرق کی بنا پر وہ تجربات پیش آتے ہیں جو لوگوں کو عمل کی زبان میں بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں امیری اور غریبی دونوں وقتی بھی ہیں اور اسی کے ساتھ اضافی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا میں معاشی فرق نہ رہے تو تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی۔ اس کے بعد معاشی اور اقتصادی ترقی رُک جائے گی۔ روحانی اور فکری ارتقا کا عمل جاری نہ رہے گا۔ انسانی دنیا زندہ انسانوں کے بجائے مردہ مجسموں کی ایک دنیا بن کر رہ جائے گی۔ ایسی حالت میں لوگ عروج و زوال اور ترقی و تنزل کے واقعات کا مشاہدہ نہ کر سکیں گے، جب کہ اسی مشاہدہ سے انسان کو وہ عظیم چیز حاصل ہوتی ہے جس کو تاریخ کے اسباق کہا جاتا ہے۔ بے خبر انسان نومبر 2004ء میں ممبئی (مبئی) کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ اس سفر میں ایک بڑا عبرت ناک واقعہ معلوم ہوا۔ ممبئی میں نیٹو مائنڈ کے نامی ایک ڈاکٹر تھے۔ 2003ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ امراض قلب کے بہت بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ سرجری میں اُن کو کمال حاصل تھا۔ انہوں نے بہت سے دل کے مریضوں کی کامیاب سرجری کی تھی۔ آخر میں اُن کو اپنے فن پر بہت غرور آ گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کے منکر بن گئے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بار ایک مسلم خاتون کے دل کا آپریشن کیا۔ آپریشن سے صحتیابی کے بعد مسلم خاتون نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی، اور بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا اس میں خدا کی کیا بات ہے۔ تم پیسہ دو اور میں تم کو صحت دوں گا: Give me money and I will give you cure.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader