بے خبر انسان
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ ایک آپریشن کا معاوضہ تین لاکھ روپے لیتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خود اُن کا انتقال دل کے دورے میں ہوا۔ وہ اپنی قیمتی کار میں سفر کر رہے تھے، ہندوجاہاسپٹل پہنچے کہ اچانک اُن پر دل کا دورہ پڑا۔ ان کو فوراً اسپتال لے جایا گیا، اتفاق سے وہاں اُس وقت جو عملہ تھا وہ ان کو پہچانتا نہ تھا۔ چنانچہ اسپتال میں ان کے ساتھ بے توجہی کا معاملہ ہوا۔ وہ بے بسی کے ساتھ چلاتے رہے کہ میں ڈاکٹر مانڈے کے ہوں۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر وہاں بروقت ان کا صحیح علاج نہ ہوسکا اور اسپتال ہی میں ان کا خاتمہ ہوگیا۔ ممبئی کے ایک دوسرے سرجن، ڈاکٹر کامران سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ انسان کے جسم میں ایک خاص عنصر ہوتا ہے۔ یہی آپریشن کے بعد اندمال (healing) کا سارا کام کرتا ہے۔ اگر یہ عنصر نہ ہو تو تمام سرجن بے روزگار ہو جائیں۔ ڈاکٹر مانڈے کے اگر اس پوری حقیقت پر غور کرتے تو وہ ہر سرجری کے بعد اپنے عجز کو دریافت کرتے۔ لیکن غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے وہ برعکس طور پر سرجری کے واقعے میں اپنی مہارت دیکھتے رہے۔ اس لیے ایسا ہوا کہ جس واقعے میں انہیں انہیں عجز کی غذا مل رہی تھی، اُس سے وہ غلط طور پر کبر کی غذا لیتے رہے اور آخر کار اسی بے خبری کے ساتھ اُن کا خاتمہ ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں یہ مزاج بہت زیادہ عام ہو چکا ہے ــ نعمتوں کا استعمال، لیکن منعم کا اعتراف نہیں۔ ہر انسان مکمل طور پر عاجز ہے مگر وہ اپنے آپ کو قادر سمجھ لیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ غور و فکر سے کام نہیں لیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر کام خارجی اسباب کی رعایت کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ آپ کی زندگی میں 99 فی صد سے زیادہ حصہ خدا کا ہے اور ایک فی صد سے بھی کم حصہ آپ کی اپنی کوشش کا۔ ایسی حالت میں انسان کے اندر اعتراف (شکر) کا جذبہ خدا کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی ذات کے لیے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں تمام دنیا کے لوگ بے خبری میں مبتلا ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader