Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے میں خدا نے انسان کو نہایت قیمتی چیزیں عطا کی ہیں، جو قدیم زمانے میں بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں تھیں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق ، بیشتر لوگ ان کا صرف غلط استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً جدید کمیونی کیشن خدا کی ایک عظیم نعمت ہے مگر غالباً اس نعمت کا تقریباً 95 فیصد حصہ صرف بے فائدہ یا غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک کہ اس نعمت پر شکر کا تعلق ہے وہ تو میں نے اپنے تجربے میں حقیقی طور پر کسی کے اندر پایا ہی نہیں، نہ مذہبی لوگوں میں اور نہ سیکولر لوگوں میں ۔ اس معاملے میں دونوں کی حالت ایک ہے - اپنے دین کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ آپ دیکھیے کہ آپ کے اندر شکر کی نفسیات ہے یا نہیں۔ بولنے کی صلاحیت ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ، وہ دعوت کے کام کو اہم کام سمجھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مدارس کے علما میں دعوت کا شوق نہیں ۔ وہ بس مدرسے کے کام میں لگے رہتے ہیں ، اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ ان کی باتیں سن کر مجھے محسوس ہوا کہ ان کے اندر بہت اچھا اسپیکنگ پاور ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ مدارس کے لوگوں کو دیکھ کر منفی احساس میں مبتلا ہو رہے ہیں ، آپ ایسا کیجیے کہ مدارس کے لوگوں کو لے کر مت سوچیے، بلکہ خود اپنے آپ کو لے کر سوچیے ۔ اگر آپ خود اپنے آپ کو لے کر سوچیں تو آپ دریافت کریں گے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا اسپیکنگ پاور دیا ہے۔ آپ اپنی اس صلاحیت کو دعوت کے کام میں استعمال کیجیے، اور مجھے یقین ہے کہ سارے شہر میں آپ سے اچھا اسپیکر نہ ہوگا۔ آپ کے اندر بولنے کی فطری صلاحیت بہت اعلیٰ درجے میں موجود ہے۔ اب آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page