تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف اتنا کیجیے کہ دعوت کے موضوع پر اپنا مطالعہ بڑھائیے۔ آپ دعوت کے اعتبار سے اپنے آپ کو مزید تیار کیجیے، اور پھر دعوت کے میدان میں کام کرنا شروع کر دیجیے۔ میں نے کہا کہ آپ اکیلے ہی، ان شاء اللہ، دعوتی کام کے لیے کافی ہیں۔ آپ اپنے آپ کو لے کر سوچیے، آپ دوسروں کو لے کر سوچنا بند کر دیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ لوگوں میں یہ غلطی بہت عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو لے کر نہیں سوچتے، بلکہ دوسروں کو لے کر سوچتے ہیں۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر وہ مثبت نفسیات میں جینے والے بن جائیں تو خدا کے وعدہ کا مستحق بن سکتے ہیں، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ لیکن وہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کر لیتے ہیں۔ شکر میں جینے والا انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی مثبت سوچ میں جینے والا انسان بنے۔ شکر، نہ کہ شکایت 5 ستمبر (2003ء) کو جمعہ کا دن تھا۔ میں نے نظام الدین کی کلاں (کالی) مسجد میں نماز ادا کی ۔ امام صاحب نے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ 1947ء میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ ہم نے دوبارہ قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا اور عدالتی کارروائی کی نوبت آ گئی۔ عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا 15 اگست 1947ء سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو پج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ تینوں دہلی کے تین ہندو تھے۔ ان میں سے ایک برہمن تھا، دوسرا بنیا اور تیسرا ہریجن۔ کلاں (کالی) مسجد تقریباً 800 سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔ میں 1983ء سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader