Urdu book · تعمیرِ شخصیت

شکر، نہ کہ شکایت

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں ۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی۔ اب یہاں مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے ۔ یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جارہا ہے۔ اسی طرح کا واقعہ ہے۔ اپریل 1996 کومیرٹھ اور اس کے اطراف کے لیے میرا سفر ہوا۔ 12 اپریل کو جمعہ کا دن تھا۔ سردھنہ کی جامع مسجد میں میں نے اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے، اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجاۓ تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پر جوش تذکرہ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں اور اس کے تذکرہ میں کوئی رطب اللسان نہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ 40 سال پہلے میں یوپی میں اپنے آبائی گاؤں، بڑھریا، ضلع اعظم گڑھ، میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی ۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور میں ہی امام اور مقتدی۔ خاص طور پر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا، جو گاؤں کے باہر کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ اس وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طور پر نماز ادا کرتا اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آ جاتا۔ مگر اب 40 سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت بارونق ہوگئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزر رہی ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون آچکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اب یہاں رات دن پہل پہل رہتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page