تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں شکایت کی بولی بولتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربہ میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکایت سے خالی ہو، اور حقیقی طور پر شکر کے جذبہ سے سرشار ہو کر حمد کلچر یا مثبت سوچ میں جیتا ہو۔ فخر اور شکر ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے پر اعتماد لہجے میں کہا: میں پورے فخر اور شکر کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے مجھے فلاں دینی ماحول میں پیدا کیا، اور اس نے مجھے فلاں ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع عطا فرمایا، وغیرہ۔ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ اس قسم کی بات بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں کہتے ہیں۔ یہ الفاظ بظاہر خوب صورت معلوم ہوتے ہیں، لیکن وہ انتہائی بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فخر اور شکر دونوں دو مختلف جذبات ہیں۔ جہاں فخر ہوگا، وہاں شکر نہیں ہوگا اور جہاں شکر ہوگا، وہاں فخر نہیں ہوگا۔ جو لوگ ایسے الفاظ بولیں، ان کے اندر فخر تو ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی شکر کا جذبہ ان کے اندر ہر گز موجود نہیں ہو سکتا۔ شکر کیا ہے۔ شکر دراصل، خداوند ذوالجلال کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔ خداوند ذوالجلال کی نعمت کا احساس فورا ہی آدمی کے اندر اپنی بے مانگی کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور اپنی بے مانگی کے احساس کے بعد کوئی شخص کبھی فخر کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اس قسم کے احساس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ”بے کچھ“ کے مقام پر پاتا ہے اور خداوند ذوالجلال کو ”سب کچھ“ کے مقام پر۔ جو آدمی اس قسم کی نفسیات کا حامل ہو، اس کے لیے فخر ایک مضحکہ خیز لفظ بن جائے گا۔ ایسا آدمی سب کچھ بھول کر شکر خداوندی کے جذبے سے سرشار ہو جائے گا۔ اس کے اندر فخر جیسی چیز کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ شکر کی توفیق ہمیشہ عجز کامل کی سطح پر ہوتی ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader