تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
جس آدمی کے اندر عجز و کمال کی اعلیٰ ربانی صفت نہ ہو، وہ شکر کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔ فخر کے ساتھ شکر کا لفظ بولنا، بتاتا ہے کہ ایسا آدمی، امتحان کی اصطلاح میں، مائنس مارکنگ (minus marking) کا مستحق ہے۔ ایسا کہنے والا شخص اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ فخر اور شکر دونوں کی اصل حقیقت سے بے خبر ہے۔ وہ نہ فخر کی نفسیات کو جانتا ہے اور نہ شکر کی نفسیات کو۔ اگر وہ دونوں کی حقیقت سے باخبر ہوتا تو وہ اس طرح، فخر اور شکر کے متضاد الفاظ کو ایک ساتھ نہ بولتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر ہمیشہ نفی فخر کی زمین پر پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اثبات فخر کی زمین پر۔ ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج 5 نومبر 2001 ء کو میں بھوپال میں تھا۔ اس دوران وہاں ایک ادارہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کا نام "شوتھم وکلانگ سماج سیواسیمتیٰ" ہے۔ یہ ادارہ معذور بچوں کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس وقت یہاں مختلف مذاہب کے 75 بچے اور بچیاں موجود ہیں۔ یہاں ان کو تعلیم دلائی جاتی ہے اور انہیں مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ خود کفیل ہو کر سماج میں معمول کی زندگی گزار سکیں۔ یہ ادارہ 1980 سے قائم ہے۔ وہ پہلے کرایہ کی عمارت میں تھا۔ اب وہ ایک خوبصورت ذاتی بلڈنگ میں قائم ہے۔ اب تک بہت سے بچے اور بچیاں اس ادارہ میں تعلیم و تربیت پا کر کامیابی کے ساتھ خود کفیل زندگی گزار رہے ہیں۔ بچوں اور اساتذہ کے سامنے میری ایک تقریر ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ معذور بچوں کے لیے قرآن میں ”محروم“ (70:25; 51:19) کا لفظ آیا ہے۔ یہ معذور بچے اللہ کے خاص بندے ہیں۔ وہ گویا دنیا میں اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ واقعہ کی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ اے لوگو، میری طرح تم بھی معذور ہو سکتے ہو۔ تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تم کو معذور نہیں بنایا۔ اس شکر کی ایک عملی صورت یہ ہے کہ تم ان معذور بچوں کی مدد کر کے ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader