Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

معذوری کی تلافی کرو۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ معذوری سادہ طور پر محرومی نہیں بلکہ وہ ایک ایڈوانٹج ہے۔ معذوری آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ بے فائدہ مشغولیتوں سے بچ کر اپنے آپ کو صرف کارآمد قسم کی مشغولیت میں لگائے۔ مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوگئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چنانچہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ مگر اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرینٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے لیے ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جن کو اختیار کر کے ناقص الاعضا شخص بھی نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ گویا یہ ایک بظاہر معذور انسان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر محرومی کی نفسیات پیدا کرنے کے بجائے شکر اور مثبت سوچ کی نفسیات پیدا کرے ۔ کامیابی کا فارمولا ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔ ایک ہندو جو سرکاری افسر تھے، انہوں نے کہا کہ اسلام کی کوئی ایسی تعلیم بتائیے جس میں ہمارے جیسے لوگوں کو بھی کچھ ملتا ہو۔ میں نے کہا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ وہ ایک بڑی کمپنی میں ڈپٹی جنرل منیجر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں ہمارے یہاں پرموشن ہوا۔ میری سطح کے تین آدمی تھے۔ میرے سوا ان دونوں کو پرموشن دے دیا گیا۔ یہ ایک کھلا ہوا تعصب تھا۔ مجھ کو بہت جھٹکا لگا۔ عجیب قسم کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ دل میں آگئی۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں آپ کو قرآن کی ایک آیت بتاتا ہوں، آپ اس پر عمل کریں۔ وہ آیت یہ ہے : لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُم (14:7) یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page