Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

واقیاتِ شکر ستمبر 2003ء کو میرٹھ کے لیے میرا سفر ہوا۔ سفر کرتے ہوئے ہم لوگ وہاں پہنچے جس کو میرٹھ - ہاپوڑ بائی پاس کہا جاتا ہے۔ یہاں الرسالہ کے قارئین کی ایک جماعت ہمارے انتظار میں کھڑی ہوئی تھی۔ مثلاً مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب، ساجد خاں صاحب، ڈاکٹر شہزاد علی صاحب (وفات 2009ء)، وغیرہ۔ عام طور پر سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ جب وہ اس طرح کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں لوگ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں تو اس منظر کو دیکھ کر وہ فخر کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔ مگر میرا حال برعکس، طور پر یہ ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ شکر کے آنسو تھے۔ میں نے سوچا کہ پچھلے زمانہ میں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں موبائل ٹیلیفون نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ موبائل ٹیلیفون اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔ آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام کے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، حتیٰ کہ آپ سفر میں ہوں تب بھی۔ چنانچہ سفر کے دوران موبائل ٹیلیفون کے ذریعہ ہمارا رابطہ قارئین الرسالہ کے مذکورہ افراد سے جاری رہا۔ دوران سفر اس ٹیلیفونی رابطہ کا نتیجہ تھا کہ جب ہماری گاڑی مذکورہ بائی پاس پر پہنچی تو وہاں الرسالہ کے قارئین پیشگی طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ * * * * * ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسلمان ملاقات کے لیے اپنی نئی کار پر بیٹھ کر آئے۔ ان کے ہاتھ پر ایک شاندار گھڑی بندھی ہوئی تھی اور جیب میں خوبصورت قلم لگا ہوا تھا۔ ان کے چہرے پر لگی ہوئی خوبصورت عینک دیکھی جوان کے شخصی وقار میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ بیٹھتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کی داستان سنانے لگے۔ اتنے میں ان کی جیب میں رکھے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page