Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

موبائل ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس کو کان پر رکھ کر وہ دور کے کسی صاحب سے بات کرنے لگے۔ جب وہ بات کر چکے تو میں نے ان سے پوچھا کہ جس عثمانی دور اور مغل دور کو آپ لوگ اپنے لیے بڑی چیز سمجھتے ہیں کیا اس زمانہ میں کوئی ایک بھی مسلمان ایسا تھا جس کے پاس موبائل یا ٹیلی فون ہو یا اس کے پاس موٹر کار ہو یا اس کے پاس ایسی گھڑی ہو جو آپ اس وقت پہنے ہوئے ہیں، یا وہ آپ جیسی عینک پہن سکتا ہو جو آپ کی شخصیت کو دوبالا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا ایک مسلمان قدیم زمانہ کے نوابوں اور بادشاہوں سے بھی زیادہ بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو یہ کرنا چاہیے کہ پہلے سے بھی زیادہ آپ لوگ خدا کا شکر ادا کریں، نہ یہ کہ شکایت اور مایوسی کی بات کر کے اپنے سینہ کو ناشکری کا قبرستان بنا لیں۔ ***** دسمبر 1993ء کے اردو اخبار میں دہلی کے ایک مسلم لیڈر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ 23 دسمبر کو بابری مسجد پر غیر قانونی قبضہ کی یادگار منائیں۔ عملاً یہ اپیل ان سنی ہو کر رہ گئی۔ تاہم میں نے سوچا کہ یہ نام نہاد مسلم لیڈر اگر ہوش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ اب تم یوم احتجاج منانا چھوڑ دو، اب تم یوم تشکر مناؤ۔ کیوں کہ ملک کی انتہا پسند طاقتوں نے 44 سال کے اندر اپنی تمام تخریبی طاقت استعمال کر ڈالی۔ اس کے باوجود ملت اسلامی کا قافلہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات ہماری گاڑی کے لیے گویا راستہ کی وہ رکاوٹیں (frictions) ہیں جو گاڑی کو بحفاظت منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ***** فروری 1994ء میں مراکو کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ مراکو کی راجدھانی رباط پہنچنے کے بعد کل شام کو میں نے اپنے دہلی کے دفتر کو ایک فیکس روانہ کیا تھا۔ آج وہاں سے اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page