واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب آگیا۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے شکر کا کلمہ نکلا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیسے کیسے وسائل دے دیے ہیں۔ یہ سن کر ایک عرب نوجوان نے کہا کہ آپ ان چیزوں پر شکر ادا کر رہے ہیں ، حالاں کہ میں نے ایک بڑے شیخ کو ان ذرائع کی مذمت کرتے ہوئے سنا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ان ذرائع مواصلات کے ذریعہ شیطانی باتیں ہر جگہ تیزی سے پہنچائی جارہی ہیں۔ یہ جدید آلات سب شیطان کے کام ہیں اور ہمیں ان سے جنگ کرنا چاہیے: ”الكلمات الشيطانية في هذه الايام ترسل عن طريق الاتصالات المدينة ر ومنها الفاكس الى كل مكان بسرعة، فهذه الاجهزة المنظورة كلها عمل شيطاني يجب علينا محاربتها“. میں نے کہا کہ شیخ نے بڑی عجیب بات کہی۔ یہ جدید ذرائع تو امکانات فطرت کا استعمال ہیں۔ جو چیز بری ہے وہ استعمال ہے، نہ کہ خود ذرائع۔ اور برا استعمال تو لوگ مذہب تک کا کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے غلط استعمال کی مذمت کرنی چاہیے، نہ کہ خود ان اشیاء کی ۔ اگر تاریخی تبدیلیاں مساعدت کے لیے موجود نہ ہوں تو ایسی ہر تحریک فساد اور خون ریزی پر منتج ہوتی ہے۔ اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کو صرف پر امن دعوتی جد و جہد تک محدود رکھیں ۔ یہاں تک کہ دہ ضروری تاریخی امکانات پیدا ہو جائیں جن کو استعمال کر کے سیاسی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔ ***** ستمبر 1993 ء میں میں برطانیہ میں تھا۔ وہاں قیام کے زمانہ میں مجھے ایک کتاب ملی۔ اس کا نام تھا: مسلمو بورما حملات ابادہ۔ اس میں برما کے مسلمانوں پر مظالم کی داستان بتائی گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader