Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برما کی حکومت وہاں کے مسلمانوں کو فنا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، مگر یہ واقعہ کا نصف ثانی ہے۔ اصل یہ ہے کہ برما کے ایک حصہ میں مسلمانوں نے علیحدگی کی تحریک چلائی ۔ اس کے نتیجہ میں وہ وہاں معتوب ہو گئے۔ اس سے پہلے وہ برما میں امن کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اس سفر میں ایک عرب نوجوان نے ایک رپورٹ پڑھنے کے لیے دی۔ اس کا عنوان تھا: برطانیہ ۔ مشکلات المسلمین اس کے مطابق برطانیہ کا کیس مسلمانوں کے لیے گو یا مشکلات کا کیس تھا۔ اس میں برطانی مسلمانوں کی مشکلات کے ذیل میں بغض، سیکولر تعلیمی نظام، نسل پرستی اور تشدد کو شمار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے مسلمان اگر ان مشکلات کو حل کر لیں تو یہاں اسلام کے لیے عظیم مستقبل ہے ( ان الإسلام في بريطانيا سيكون له مستقبل عظیم اذا تمكنوا من حل المشكلات السابقة، ص492 )۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے کہا کہ ان الفاظ میں موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں کی سب سے بڑی غلطی کا راز چھپا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مستقبل کی تعمیر کا آغاز مشکلات کو ختم کرنے سے ہوتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل کی تعمیر کا صحیح آغاز یہ ہے کہ مشکلات کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کیا جائے ( زعماء المسلمين يعتقدون أن بناء المستقبل يبدأ من حل المشاكل۔ والصحيح ان بناء المستقبل يبدأ من الاعراض عن المشاكل واستغلال الفرص )۔ ***** 29 ستمبر 1993 ء کو فجر کی نماز برمنگھم کی سنٹرل مسجد (مرکزی مسجد) میں پڑھی۔ اس میں بیک وقت تین ہزار آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اب ایک اور مسجد بنائی جا رہی ہے جس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page