واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پانچ ہزار آدمیوں کے لیے گنجائش ہوگی۔ نماز کے بعد ایک مجلس میں میں نے کہا کہ فجر کی نماز کے بارے میں ایک بڑی عجیب حدیث ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ۔مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 657)۔ یعنی، جس نے صبح کی نماز پڑھلی وہ خدا کی ذمہ داری میں آگیا۔ گویا فجر کی نماز اللہ کی طرف سے حفاظت کی گارنٹی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی پر اسرار بات نہیں، بلکہ ایک ایسی بات ہے جو غور و فکر سے سمجھ میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز آدمی کے اندر وہ صفات پیدا کرتی ہے جس کے بعد آدمی لوگوں کی دست برد سے محفوظ ہو جائے۔ مثلاً نماز کی چند باتوں کو لیجیے۔ آپ بستر سے اٹھ کر سب سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ وضو گویا ایک علامتی فعل کے ذریعہ اس بات کا عزم ہے کہ آپ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے پاک رہیں گے۔ پھر نماز میں بار بار اللہ اکبر کہتے ہیں۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ آپ اللہ کی بڑائی کے احساس میں جئیں گے اور تواضع کی روش اختیار کریں گے۔ پھر آپ ہر رکعت میں الحمد للہ رب العالمین کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر حال میں اللہ کا شکر کریں گے۔ جو بھی اللہ نے دیا ہے اس پر قانع رہیں گے۔ آخر میں آپ دونوں طرف رخ کر کے کہتے ہیں کہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ گویا کہ آپ اہل عالم کو بتا رہے ہیں کہ ان کے لیے آپ کے دل میں صرف رحمت اور سلامتی کا جذبہ ہوگا۔ صبح کی نماز میں جو لوگ اس قسم کے اخلاق کی تربیت پا کر نکلیں ان کا یہ اعلیٰ انسانی اخلاق خود ہی ان کی محبوبیت اور حفاظت کی ضمانت بن جائے گا۔ ***** اسپین کا سفر ہوا۔ 11 دسمبر کی رات کو دہلی سے روانگی ہوئی اور 19 دسمبر 2003ء کو سفر سے واپسی ہوئی۔ 12 دسمبر کی صبح کو میں اسپین کی راجدھانی میڈرڈ کے ائیر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ میڈرڈ ائیر پورٹ نہایت وسیع اور شاندار ہے۔ یہاں مسافروں کی سہولت کے لیے ہر قسم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader