Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

کا اعلیٰ انتظام تھا۔ جب میں میڈلڈ کے شاندار ایئر پورٹ پر چل رہا تھا تو بے اختیار میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ جو چیز کھوئی گئی وہ اعتراف اور انسانیت کی خیر خواہی ہے۔ اگر ان کے اندر یہ صفت موجود ہوتی تو وہ اس واقعہ پر تڑپ اٹھتے۔ وہ یہاں آکر ان لوگوں سے کہتے کہ ہم آپ کے کارناموں کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی قافلہ کو روایتی ترقی کے دور تک پہنچایا تھا، آپ نے اپنی محنت سے انسانیت کو سائنسی ترقی کے دور تک پہنچا دیا اور تاریخ میں پہلی بار ایک خوبصورت دنیا تعمیر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ آئیے ہم دونوں مل کر خالق کا شکریہ ادا کریں۔ تا کہ ہم دونوں خدا کی زیادہ بہتر دنیا میں داخلہ کے مستحق قرار پائیں۔ وہ معیاری دنیا جس کی صرف ایک جھلک خدا نے آج کی دنیا میں رکھی ہے تا کہ ہم بعد کی بہتر دنیا کا پیشگی تعارف حاصل کرسکیں، یعنی وہ دنیا جس کا نام جنت ہے۔ ***** 12 دسمبر 2003ء کو نئی دہلی سے اسپین کے لیے سفر ہوا۔ اسپین پہنچنے کے بعد اشبیلیہ ایئر پورٹ سے شہر کی طرف روانگی ہوئی۔ سڑک کافی چوڑی اور ہموار تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کے کھلے ہوئے مکان اور دکانیں نظر آئیں۔ پورا راستہ شاداب اور پر رونق تھا۔ یہ وہی شہر ہے جو مسلم دور میں اشبیلیہ کے نام سے مشہور تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر قدیم اشبیلیہ اور جدید اشبیلیہ کو سامنے رکھ کر تقابل کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پہلے یہ ایک ٹاؤن تھا اور اب وہ ایک ماڈرن شہر ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب اسپین کا حوالہ آتا ہے تو وہ صرف ”آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی“ جیسی زبان بولنا جانتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ جب کہ اسپین مسلم عہد کے مقابلہ میں آج زیادہ ترقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page