واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
یافتہ ملک بن چکا ہے تو اس قسم کی منفی باتیں کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ موجودہ مسلمان اپنے مزاجی بگاڑ کی بنا پر خود اپنی عظمت پر فخر کرنا تو جانتے ہیں مگر وسیع تر معنیٰ میں انسانی ترقی سے وہ اپنے آپ کو وابستہ نہ کرسکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ایک مسلمان مغل دور اور عثمانی دور اور اندلسی دور سے سوگنا زیادہ بہتر حالت میں رہتا ہے۔ مگر اپنے اس بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ شکایت اور مایوسی کے سوا کوئی اور زبان بولنا نہیں جانتا۔ ورنہ اس کی زبان مثبت باتوں سے سرشار رہتی۔ وہ سمجھتا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ خدا کے شکر میں جینے والے بن جائیں۔ ***** بمبئی کے سفر (نومبر 2004ء) میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے زمانہ میں آدمی نا ہموار راستوں پر اونٹ اور خچر سے سفر کرتا تھا۔ اس لیے پہلے زمانہ میں شکر کی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ اب لوگ موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کرتے ہیں اس لیے اب شکر کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ میں نے کہا کہ یہ ناواقفیت کی بات ہے۔ شکر بالفاظ دیگر ربانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ خداوندِ برتر کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ عبدیت کو دریافت کرنا ہے۔ جو لوگ اس احساسِ عبدیت سے خالی ہوں اُن کو پچھلے زمانہ میں ربانی کیفیت کا تجربہ ہوسکتا تھا اور نہ وہ موجودہ زمانہ میں اس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کر سکتے تھے، جس کو شکر کہا جاتا ہے۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ دنیا کی نعمتوں کو کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ اس سے تو خدا کے مُنْعِم ہونے کا تصور پیدا ہوتا ہے اور آدمی خدا کا شاكر بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ نعمتوں پر شکر کا یہ بہت ناقص تصور ہے۔ شکر کا اعلیٰ تصور یہ ہے کہ آپ سورج اور چاند کو دیکھ کر شکر گزار بندے بنیں۔ دریا کی روانی اور ہوا کے جھونکوں میں آپ کو شکرِ خداوندی کا پیغام پہنچ رہا ہو۔ درخت کی ہریالی اور زمین کی گردش آپ کے اندر شکر کا طوفان برپا کردے۔ حقیقی شکر کا ماخذ ذاتی آرام نہیں، بلکہ قدرتِ خداوندی کی پھیلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ یہ بات قرآن کے ہر صفحے پر موجود ہے۔ *****

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader