Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے نومبر 1988ء میں میرا صنعاء (یمن) کا سفر ہوا۔ اس درمیان مہمانوں کو سد مارب (Marib dam) لے جایا گیا۔ یہ ایک تاریخی بند ہے جسے سد العرم بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ذکر قرآن کی سورہ سبا آیت 16-15 میں آیا ہے۔ اس ڈیم کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے تا کہ اس ڈیم کی وجہ سے یہ تاریخی علاقہ یاد رکھا جائے (يحيى ذكرى هذه المنطقة)۔ یہ ڈیم گویا انسان کے لیے اس بات کا نشان ہے کہ خدا کے شکر گزار بنو تو تمہارے لیے سب کچھ ہے اور ناشکری کرو گے تو اس کا نتیجہ دوبارہ وہی ہوگا جو قوم سبا کے ساتھ پیش آیا۔ ***** اکتوبر 1988ء کو کابل میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں میری ملاقات ڈاکٹر میاں سعید (حال مقیم واشنگٹن) ہوئی ۔ انھوں نے 1962 ء کا ایک واقعہ بتایا۔ اس وقت وہ لندن میں تھے۔ لندن یونیورسٹی میں ان کی ملاقات ڈاکٹر پدما مسرا سے ہوئی۔ وہ ایک ہندوستانی خاتون تھیں، جو اس لندن یونیورسٹی میں تھیں۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر پدما مسرا نے ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ وہ بنارس اور لکھنؤ کے درمیان سفر کر رہی تھیں۔ ان کے ڈبے میں لکھنو کی ایک مسلمان عورت بھی تھی جو ایک سیٹ پر اپنی گٹھری رکھے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کے میلے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کسی معمولی گھر کی ہے۔ غالباً وہ سبزی فروش گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس دوران میں وہ ایک بار باتھ روم گئی۔ اس کی غیر موجودگی میں ایک کھڑے ہوئے مسافر نے اس کی گٹھری ہٹادی اور جگہ بنا کر وہاں بیٹھ گیا۔ مذکورہ عورت جب باہر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی گٹھری ہٹی ہوئی ہے اور وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ سخت برہم ہو گئی۔ اس نے غصہ میں کہا: نہ رہی نوابی، ورنہ تم کو زندہ دیوار میں چنوادیتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page