واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر سعید صاحب نے کہا کہ مسلمانوں سے حکومت چلی گئی ، مگر ان کا حاکمانہ مزاج اب تک ان سے نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے، وہ سب ان کے اسی مزاج کی قیمت ہے۔ کوئی نعمت آدمی کو ملے تو آدمی کو اس پر شکر کرنا چاہیے، اور جب وہ چھن جائے تو صبر۔ مگر مسلمانوں نے نہ پہلے شکر کیا اور نہ اب وہ صبر کرنے پر راضی ہیں۔ * * * * * دسمبر 1988 ء میں امریکہ میں منعقد ہونے والی ایک انٹرنیشنل سیرت کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے میرا ایک سفر ہوا۔ یہ کانفرنس اسلامک سوسائٹی کیلی فورنیا نے منعقد کیا تھا۔ سفر کی تیاری کے آخری دنوں میں ایک مسئلہ پیش آیا۔ میرے رفیق سفر کوئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ سے ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک تحریر درکار تھی جس میں بتایا گیا ہو کہ امریکہ کے متعلقہ اسلامی ادارہ نے ان کو بھی میرے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے، مگر وقت اتنا کم تھا کہ ڈاک کے ذریعہ سے امریکہ کا خط ہندوستان نہیں پہنچ سکتا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو استعمال کر کے جدید انسان نے اس مسئلہ کو حل کر لیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے دفتر کو بذریعہ ٹیلی فون ضرورت بتائی گئی اور ایک گھنٹہ کے اندر ان کا دستخط شدہ خط دہلی میں موجود تھا۔ یہ تیز رفتار ترسیل اس آلہ کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں تصویری مشین (Facsimile machine) کہا جاتا ہے اور جس کا مختصر نام فیکس (Fax) ہے۔ آپ ایک تحریر یا ایک خط تیار کر کے مشین میں ڈالیں، اور ایک سیکنڈ کے اندر وہ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر ویساہی چھپا ہوا نکل آئے گا۔ ابتدائی انسانی دور میں صرف پیدل پیغام رسانی کا طریقہ رائج تھا۔ پھر گھوڑوں کا استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیلی گرام ، ٹیلی فون اور ٹیلكس (Telex) کے طریقے دریافت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader