واقعاتِ شکر
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ۔ اب فیکس کے طریقہ نے سب پر برتری حاصل کرلی ہے (موجودہ دور میں موبائل اور کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے اس معاملے کو اور بھی آسان کر دیا ہے)۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں، مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس کا واقعی شکر ادا کرتے ہوں۔ ***** مارچ 1990ء میں ایک بین اقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے طرابلس کا میرا ایک سفر ہوا۔ جہاز کا بیشتر سفر خشکی کے اوپر ہوا۔ بالائی فضا میں پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ہندوستانی وقت کے لحاظ سے پانچ بجے بحر روم کے اوپر پہنچ گیا۔ اس جہاز کو نہ خشکی کی پستی یا بلندی نے روکا، اور نہ سمندر اس کی راہ میں حائل ہوا۔ وہ شہری آبادیوں کے اوپر سے بھی اسی طرح تیزی سے گزر گیا جس طرح کھلے میدانوں کے اوپر سے۔ بے شمار لوگ روزانہ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں، اگر مسافروں کے چہرے اور ان کی گفتگوئیاں بتاتی ہیں کہ اس قدرتی معجزہ کو سوچ کر کسی کے اندر تموج کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان، دونوں قسم کے لوگ ہوائی جہاز کا سفر تو کر رہے ہیں، مگر ہوائی جہاز کے سفر کے دوران ان کا شعور ربانی مسافت طے نہیں کرتا۔ ان کا حال تقریباً اس چو پایہ کا سا ہے جس کو ایک مقام پر جہاز میں بیٹھا یا جائے اور لے جا کر اس کو دوسرے مقام پر اتار دیا جائے۔ لارڈ کرزن ایک بے حد مالدار خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کا بڑے جاہ و جلال کا وائسرائے بنا۔ مگر 1898ء میں جب وہ ہندوستان کا وائسرائے ہو کر روانہ ہوا تو لندن سے کلکتہ تک کا سفر طے کرنے میں اس کو سترہ دن لگ گئے۔ اس وقت ملک میں ہوائی جہاز کا سفر رائج نہیں ہوا تھا۔ آج ایک عام آدمی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم میں پہنچ جاتا ہے۔ *****

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader