Urdu book · تعمیرِ شخصیت

واقعاتِ شکر

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

17 مارچ کو میں نے فجر کی نماز دہلی کے ہوائی اڈہ پر پڑھی تھی، اس دن میں عصر کی نماز کے وقت طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ موجودہ زمانہ میں تیز رفتار سواریوں نے سفر کے معاملہ کو کتنا زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز اپنے اندر سیکڑوں مسافروں کو بیٹھا کر ہوا میں اڑتا ہے اور خشکی اور پہاڑ اور سمندر کی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ کتنا حیرت ناک واقعہ ہے۔ آج بے شمار لوگ اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھارہے ہیں مگر ان میں شاید ہی کوئی ہو جس کا حال یہ ہو کہ خدا کی اس عظیم نعمت کو سوچ کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ استعجاب (awe) کے سمندر میں غرق ہو کر کہہ اٹھے: فَبِأَيِّ ءالاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (13: 55)۔ یعنی، پھر تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ اسی سفر کا واقعہ ہے۔ ایک دن ہوٹل کے طعام گاہ میں ایک میز پر ہم تین آدمی دن کا کھانا کھارہے تھے۔ میرے سوا ایک شارجہ کے تھے اور دوسرے مصر کے۔ کچھ دیر بعد ایک اور مصری دکتور آئے۔ وہ ہماری قریب والی کرسی پر بیٹھ گئے۔ انھوں نے ایک منٹ انتظار کے بعد ہوٹل کے آدمی کو مخاطب کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا: هل المتأخرون يأكلون ام لا يأكلون (بعد کو آنے والے کھائیں گے یا نہیں)۔ تھوڑی ہی دیر میں آدمی نے کھانے کی پلیٹ لا کر ان کے سامنے رکھ دی۔ حالانکہ عام حالت میں انھیں دیر میں کھانا پہنچنا چاہیے تھا۔ انھوں نے کہا کہ مزاح اکثر حالات میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ وہ کھانے کے پورے وقت میں مزاحیہ انداز میں باتیں کرتے رہے۔ اکثر لوگوں کا انداز یہی ہوتا ہے۔ مگر مجھے ذاتی طور پر یہ انداز بالکل پسند نہیں۔ جس وقت کھانا سامنے رکھا ہوا ہو، وہ انتہائی سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے۔ کھانا اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمت ہے۔ یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی پر سب سے زیادہ شکر کا جذبہ طاری ہونا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page